اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 231

اصحاب بدر جلد 5 231 ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور ممکن ہے کہ اسی واقعہ نے قریش کو بد دل کر دیا ہو اور انہوں نے اسے بد فال سمجھ کر پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہے کہ قریش کا یہ لشکر جو یقیناً کوئی تجارتی قافلہ نہیں تھا۔" تجارت کی آڑ میں یہ لوگ با قاعدہ لشکر بنا کر نکلے تھے، مسلح تھے۔" اور جس کے متعلق ابن اسحاق نے جمع عظیم " یعنی ایک بڑا لشکر" کے الفاظ استعمال کئے ہیں کسی خاص ارادہ سے اس طرف آیا تھا، لیکن یہ یقینی ہے کہ ان کی نیت بخیر نہیں تھی۔"نیک نیت سے بہر حال وہ نہیں آئے تھے، حملہ کرنے آئے تھے اور اس لئے مسلمانوں نے بھی تیر اندازی کی۔اور یقینا اس سے یہ لگتا ہے کہ پہلی تیراندازی بھی کافروں کی طرف سے ہوئی تھی۔" اور یہ خدا کا فضل تھا کہ مسلمانوں کو چوکس پا کر اور اپنے آدمیوں میں سے بعض کو مسلمانوں کی طرف جاتا دیکھ کر ان کو ہمت نہیں ہوئی اور وہ واپس لوٹ گئے اور صحابہ کو اس مہم کا یہ عملی فائدہ ہو گیا کہ دو مسلمان روحیں قریش کے ظلم سے نجات پا گئیں۔" ་་ جنگ بدر کے دن مبارزت میں سامنے آنے والے 541" آپ نے غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے ولید بن عتبہ سے مبارزت کی۔احادیث میں آتا ہے کہ قرآن کریم کی ایک آیت بھی اس واقعہ کے متعلق اتری ہے۔چنانچہ حضرت علی سے روایت ہے کہ آیت ھذنِ خَصمِنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمُ ( ج:20) ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جنہوں نے بدر والے دن مبارزت کی یعنی حضرت حمزہ بن عبد المطلب، حضرت علی بن طالب اور حضرت عبیدہ بن حارث اور عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔542 آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ دو جھگڑالو ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔پوری آیت اس طرح یہ ہے کہ : ھذنِ خَصْمَنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارِ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ (الحج: 20) یہ دو جھگڑالو ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔پس وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے۔ان کے سروں کے اوپر سے سخت گرم پانی انڈیلا جائے گا۔دو بہر حال اس مبارزت کی مزید تفصیل سنن ابو داؤد میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ عقبہ بن ربیعہ اور اس کے پیچھے اس کا بیٹا اور بھائی بھی نکلے اور پکار کر کہا کہ کون ہمارے مقابلے کے لئے آتا ہے ؟ تو انصار کے کئی نوجوانوں نے اس کا جواب دیا۔عتبہ نے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے بتادیا کہ ہم انصار ہیں۔عتبہ نے کہا کہ ہمیں تم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ہم تو صرف اپنے چچا کے بیٹوں سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس پر آپ صلی علیم نے فرمایا کہ اے حمزہ! اٹھو۔اے علی ! کھڑے ہو۔اے عبیدہ بن حارث ! آگے بڑھو۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الم کی آواز سنتے ہی حضرت حمزہ عتبہ کی طرف بڑھے اور میں شیبہ کی طرف بڑھا اور عبیدہ بن حارث اور ولید کے درمیان