اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 8
8 اصحاب بدر جلد 5 ان تکلیفوں کو اپنے اوپر وارد کرنے کے لیے، سہیڑنے کے لیے آنحضرت صلی لیلی کیم کی مدد کی تھی اور پھر نہ صرف یہ کہ چھپ کے مدد کی یہ ظاہر بھی ہوا اور پھر نہایت ثابت قدمی سے مصائب اور ظلم بر داشت بھی کیسے تو اس بات کو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا کہ یہ انتہائی بودا اعتراض ہے۔یہ تو ان مومنین کا، ان لوگوں کا جو آنحضرت صلی علیہ کم پر ایمان لائے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان تھا جس نے انہیں ثابت قدم رکھا اور انہوں نے آنحضرت صلی الم سے اسلام سیکھا اور اللہ تعالیٰ کی وحی پر ایمان لائے تو بہر حال اس ضمن میں یہ بیان تھا۔34 رض حضرت عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں ضعیب سے دارِ ارقم کے دروازے پر ملا تو رسول اللہ صلی الیم تشریف فرما تھے۔میں نے پوچھا تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ صہیب نے مجھ سے کہا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ محمد صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ کا کلام سنوں۔حضرت صہیب نے کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔حضرت عمار کہتے ہیں کہ پھر ہم دونوں آنحضور صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے سامنے اسلام پیش کیا جس پر ہم نے اسلام قبول کر لیا۔ہم سارا دن وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ہم نے شام کی۔پھر ہم وہاں سے چھپتے ہوئے نکلے۔حضرت عمار اور حضرت مہیب نے تیس سے زائد افراد کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔؟ 35 36 اسلام لانے میں سبقت رکھنے والے چار۔۔۔حضرت انس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی للی کرم نے فرمایا اسلام لانے میں سبقت رکھنے والے چار ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں عرب میں سبقت رکھنے والا ہوں۔صہیب روم میں سبقت رکھنے والا ہے۔سلمان اہل فارس میں سبقت رکھنے والا ہے۔اور بلال حبش میں سبقت رکھنے والا ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ سب سے پہلے جنہوں نے اپنے اسلام کا اعلان فرمایا وہ سات ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپؐ پر شریعت اتری تھی اور ابو بکر اور عمار اور ان کی والدہ سمیہ اور صہیب اور بلال اور مقداد۔پس رسول اللہ صلی علی یم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعہ محفوظ رکھا اور ابو بکر کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعہ سے محفوظ رکھا۔اس بارے میں گذشتہ خطبے میں میں وضاحت کر چکا ہوں کہ یہ راوی کا خیال ہے ورنہ آنحضرت صلی لی نام اور حضرت ابو بکر کو بھی ان ظلموں کا نشانہ بنا پڑا تھا۔گو شروع میں کچھ بچت ہوئی لیکن پھر بنا پڑا۔بہر حال راوی کہتا ہے کہ باقیوں کو مشرکوں نے پکڑ لیا اور لوہے کی زرہیں پہنائیں اور انہیں دھوپ میں جلاتے تھے۔پس ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس نے ان کے ساتھ جس بات پر وہ چاہتے تھے موافقت نہ کرلی ہو سوائے بلال کے کیونکہ ان پر اپنا نفس اللہ کی خاطر بے حیثیت ہو گیا تھا اور وہ اپنی قوم کے لیے بھی بے حیثیت تھے۔وہ ان کو پکڑتے اور لڑکوں کے سپر د کر دیتے اور انہیں مکے کی گھاٹیوں میں گھماتے پھرتے اور بلال احد، احد کہتے جاتے تھے۔37