اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 7

7 167 اصحاب بدر جلد 5 حضرت صہیب بن سنان اسلام لانے میں سبقت رکھنے والے چار مہیب روم میں سبقت رکھنے والا سائی نام و نسب حضرت صہیب بن سنان ہے۔حضرت صہیب کے والد کا نام سنان بن مالک اور والدہ کا نام “ بنت فعید تھا۔حضرت صہیب کا وطن موصل تھا۔حضرت صہیب کے والد یا چا کسری کی طرف سے ابلہ کے عامل تھے۔ابله وجلہ کے کنارے ایک شہر ہے جو بعد میں بصرہ کہلایا۔رومیوں نے اس علاقے پر حملہ کیا تو انہوں نے حضرت صہیب کو قیدی بنا لیا جبکہ وہ ابھی کم عمر تھے۔ابو القاسم مغربی کے مطابق حضرت صہیب کا نام عمیرہ تھا، رومیوں نے صہیب نام رکھ دیا۔30 حضرت صهیب کارنگ نہایت سرخ تھا۔قد نہ لمبا تھا اور نہ ہی چھوٹا اور سر پر گھنے بال تھے۔31 حضرت صہیب نے رومیوں میں پرورش پائی۔ان کی زبان میں لکنت تھی۔گلب نے انہیں رومیوں سے خرید لیا ( یہ ایک اور شخص تھا) اور انہیں لے کر مکہ آگیا۔پھر عبد اللہ بن جدعان نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔حضرت صہیب عبد اللہ بن جدعان کی وفات تک اس کے ساتھ مکے میں رہے یہاں تک کہ نبی صلی علیکم کی بعثت ہو گئی۔ایک روایت کے مطابق حضرت صہیب کی اولاد کہتی ہے کہ حضرت صهيب جب عقل و شعور کی عمر کو پہنچے تو روم سے بھاگ کر مکے آگئے اور عبد اللہ بن جدعان کے حلیف بن گئے اور ان کی وفات تک ان کے ساتھ رہے۔قبولیت اسلام کے بعد تکالیف و مظالم سہنے والے حضرت مصلح موعود ان کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ ”ایک غلام صهیب تھے جو روم سے پکڑے ہوئے آئے تھے۔یہ عبد اللہ بن جدعان کے غلام تھے جنہوں نے ان کو آزاد کر دیا تھا۔یہ بھی رسول کریم صلی علی کم پر ایمان لائے اور آپ کے لیے انہوں نے کئی قسم کی تکالیف اٹھائیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بات اس ضمن میں بیان فرمائی کہ قرآن کریم میں جو ہے کہ کفار کہتے ہیں کہ یہ قرآن آنحضور صلی الی ایم نے دوسروں یا غلاموں کی مدد سے بنالیا ہے تو اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ یہ غلام تو مسلمان ہونے کی وجہ سے مصائب اور ظلموں کا نشانہ بنے تو کیا انہوں نے یعنی ان غلاموں نے الله 32 3366