اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 213
اصحاب بدر جلد 5 213 تعویذ گنڈوں پر حضرت عبد اللہ کا سخت رد عمل الله سة عبد اللہ بن مسعود اپنے بیوی بچوں سے محبت رکھتے تھے۔گھر میں داخل ہوتے تو کھنکھارتے اور بلند آواز سے کچھ بولتے تاکہ گھر کے لوگ باخبر ہو جائیں۔آپ کی اہلیہ حضرت زینب بیان کرتی ہیں کہ ایک روز عبد اللہ گھر داخل ہوئے اس وقت ایک بوڑھی عورت مجھے تعویذ پہنا رہی تھی۔عورتوں کو عادت ہوتی ہے بعض دفعہ کہ تعویذ گنڈا بھی کر لیں شاید برکت حاصل کرنے کے لئے تو ان کو پتہ تھا کہ عبد اللہ بن مسعود کو یہ چیز پسند نہیں ہے۔کہتی ہیں میں نے ان کے ڈر سے اسے اپنے پلنگ کے نیچے چھپا دیا، جہاں بیٹھ کر کر رہی تھی۔آپ میرے پاس آکر بیٹھ گئے اور میرے گلے کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ یہ دھاگہ کیسا ہے جو تم نے گلے میں ڈالا ہوا ہے ؟ میں نے کہا تعویذ ہے۔انہوں نے اس کو توڑ کے اسی وقت پھینک دیا اور کہا کہ عبد اللہ کا خاندان شرک سے بری ہے۔پھر عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیکم سے میں نے سنا ہے کہ تعویذ گنڈے شرک میں داخل ہیں۔میں نے کہا یہ آپ کیا فرماتے ہیں ؟ میری آنکھیں جوش کر آتی تھیں تو میں فلاں یہودی سے تعویذ لینے جایا کرتی تھی۔بعض دفعہ میری آنکھوں میں تکلیف ہوا کرتی تھی، آنکھیں پھول جاتی تھیں ، پانی نکلتا تھا تو میں تو یہودی سے اس کا تعویذ لیتی تھی اور اس کے تعویذ سے مجھے سکون ہو جاتا تھا۔تو عبد اللہ بن مسعود بولے کہ یہ سب شیطانی عمل ہے۔تمہارے لئے رسول اللہ صلی علیم کی یہ دعا ہی کافی ہے اور وہ دعا یہ ہے کہ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبِّ النَّاسِ اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءكَ شِفَاءَ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا۔اے لوگوں کے پروردگار میری تکلیف کو دور فرما تو شفادے صرف تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے سوا کوئی شفا کار گر نہیں۔ایسی شفا جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔496 اب وہ لوگ جو پیروں فقیروں کے دروں پہ جاتے ہیں وہ لوگ جو سارا دن بھنگ اور چرس پی رہے ہوتے ہیں، کبھی نمازیں بھی نہیں پڑھتے اور ان سے تعویذ گنڈا کر ا کے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم صحتیاب ہو گئے یا ہم پہ بڑا فضل ہو گیا اور ہمیں اولاد مل گئی اور فلاں ہو گیا۔یہ سب باتیں ان لوگوں کا جواب ہے۔عبد اللہ بن مسعود ایک دفعہ اپنے ایک دوست ابو عمیر سے ملنے گئے۔اتفاق سے وہ موجود نہیں تھے تو انہوں نے ان کی بیوی کو سلام بھیجا اور پینے کے لئے پانی مانگا۔گھر میں پینے کا پانی موجود نہیں تھا۔انہوں نے ایک لونڈی کو کسی ہمسائے کے پاس بھیجا۔اس سے پانی لینے گئی اور دیر تک واپس نہیں آئی۔ابو عمیر کی بیوی نے اس کام کرنے والی لونڈی کو اس بات پر سخت ست کہا اور اس پر لعنت بھیجی۔حضرت عبد اللہ یہ سن کر پیاسے ہی واپس پلٹ گئے۔دوسرے دن ابو عمیر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اتنی جلدی واپس چلے جانے کی وجہ پوچھی کہ تم پانی پئے بغیر ہی چلے گئے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری بیوی نے جب خادمہ پر لعنت بھیجی تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ ہم کی بات یاد آگئی کہ جس پر لعنت بھیجی جاتی ہے اگر وہ بے قصور ہو تو لعنت بھیجنے والے پر واپس آجاتی ہے۔تو میں نے سوچا کہ خادمہ اگر بے قصور