اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 212
اصحاب بدر جلد 5 212 پھر نبی کریم صلی ال کی وہاں سے رخصت ہو گئے اور فرمایا کہ جس شخص کی خوشی اس بات میں ہو کہ وہ قرآن کریم کو اس طرح تازگی سے پڑھے جس طرح وہ نازل کیا گیا تو اسے عبد اللہ بن مسعود سے قرآن شریف پڑھنا چاہئے۔مسند احمد بن مقبل میں یہ روایت ہے۔489 سنت رسول صلی یم پر عمل کرنے کے شوق و جذبہ حضرت عبدالرحمن بن یزید یہ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں ایسے شخص کا پتہ بتا دیں جو رسول اللہ صلی علی یم کی روش سے زیادہ قریب ہو، اس طریق پر چلنے والا ہو اور وہی کام کرنے والا ہو یا قریب ترین ہو جو آنحضرت صلی علی کم کیا کرتے تھے تا کہ ہم اس سے علم حاصل کریں اور حدیثیں سنیں۔تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی ال کم کی روش سے سب سے زیادہ قریب عبد اللہ 490 492 491 بن مسعود ہیں۔ان کا سنت رسول صلی علیم پر عمل کرنے کے شوق و جذبہ کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ صلی ال کمی کی وفات کے بعد صحابہ سے جب یہ سوال کیا جاتا کہ نبی کریم صلی نمیریم سے عادات و خصائل اور سیرت و شمائل کے لحاظ سے آپ کے صحابہ میں سے قریب ترین کون ہے جس کا طریق ہم بھی اختیار کریں تو حضرت حذیفہ بیان فرماتے تھے کہ میرے علم کے مطابق چال ڈھال، گفتگو اور اخلاق و اطوار کے لحاظ سے عبد اللہ بن مسعود نبی کریم صلی الم کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ نبی کریم فرماتے تھے کہ مجھے اپنی امت کے لئے وہی باتیں پسند ہیں جو عبد اللہ بن مسعود کو مرغوب ہیں۔یہ بخاری کی حدیث ہے۔حضرت علقمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کو ان کے طریق، ان کے حسن سیرت اور ان کی میانہ روی میں رسول اللہ صلی علی ایم سے تشبیہ دی جاتی تھی۔2 حضرت عبد اللہ بن مسعود کے بیٹے عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی عادت تھی کہ جب رات کو لوگ سو جاتے تو وہ تہجد کے لئے اٹھتے۔ایک رات میں نے انہیں صبح تک گنگناتے ہوئے سنا جیسے شہد کی مکھی گنگناتی ہے۔493 یعنی دعا میں ملکی ہلکی گنگناہٹ کے ساتھ دعائیں کر رہے تھے یا تلاوت کر رہے تھے۔حضرت علی سے روایت ہے کہ آنحضور صلی ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں بغیر مشورے کے کسی کو امیر بناتا تو عبد اللہ بن مسعود کو بناتا۔494 پھر ایک جگہ حضرت علی کی یہی بات اس طرح بیان ہوئی ہے، الطبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الی یم نے مجھ سے فرمایا اگر میں مسلمانوں کی مجلس شوری کے علاوہ کسی اور کو امیر بناتا تو عبد اللہ بن مسعود کو امیر بناتا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد کبھی بھی چاشت کے وقت نہیں سویا۔495