اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 211
486 211 اصحاب بدر جلد 5 دینی بھائی بنایا۔مدینہ کے ابتدائی ایام میں آپ کے مالی حالات اچھے نہیں تھے چنانچہ حضور صلی ہی ہم نے جب مہاجرین کے لئے مسجد نبوی کے قریب رہائش کا کچھ انتظام کیا تو بنو زہرہ کے بعض لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود کو اپنے ساتھ رکھنے میں کچھ ہچکچاہٹ ظاہر کی کہ یہ مزدور آدمی ہے، غریب آدمی ہے، ہم لوگ بڑے آدمی ہیں۔آنحضور صلی میں کم کو جب علم ہوا تو آپ نے اپنے اس غریب اور کمزور خادم کے لئے غیرت دکھاتے ہوئے فرمایا کہ کیا خدا نے مجھے اس لئے مبعوث فرمایا ہے کہ تم لوگ یہ فرق رکھو۔یادر کھو خدا تعالیٰ اس قوم کو کبھی برکت عطا نہیں کرتا جس میں کمزور کو اس کا حق نہیں دیا جاتا اور پھر حضور صلی علیم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود کو مسجد کے قریب جگہ دی جبکہ بنو زہرہ کو مسجد کے پیچھے ایک کونے میں جگہ دی۔حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں، خود ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللی کرم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے سورۃ نساء پڑھ کر سناؤ۔عبد اللہ بن مسعود اپنا خود واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ آنحضرت صلی یکم نے فرمایا مجھے سورۃ نساء پڑھ کر سناؤ۔میں نے عرض کی کہ میں بھلا کیا آپ کو سناؤں یہ آپ ہی پر تو نازل ہوئی ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ مجھے پسند ہے کہ کوئی دوسرا شخص تلاوت کرے اور میں سنوں۔بیان کرتے ہیں کہ میں نے پڑھنا شروع کیا اور جب اس آیت پر پہنچا کہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَ جِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاء شھیدا (النساء: 412) پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے تو آنحضور صلی الیکم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔روایات میں آتا ہے کہ آپ نے کہا بس کرو۔487 ایک دفعہ حضرت عمر فاروق عرفات کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ اے امیر المومنین !( ان کی خلافت کے بعد کی بات ہے) میں کوفہ سے آیا ہوں۔وہاں میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص بنا دیکھے قرآن کی آیات کی املاء کر تا ہے۔اس پر آپ نے غصہ کی حالت میں کہا کہ تیر ابر اہو ( عربوں کا انداز ہے ) کون ہے وہ شخص ؟ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ عبد اللہ بن مسعود۔یہ سن کر حضرت عمر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا یہاں تک کہ پہلی حالت میں واپس آگئے۔پھر فرمانے لگے کہ میں اس کام کا عبد اللہ بن مسعود سے زیادہ کسی اور کو حقدار نہیں سمجھتا۔488 وہ عبد اللہ بن مسعودؓ سے قرآن پڑھے وہ بغیر دیکھے قرآن کریم لکھ سکتے ہیں۔حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت حضرت ابو بکر اور میں آنحضور صلی العلیم کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پاس سے گزرے۔وہ نوافل ادا کر رہے تھے اور ان میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے۔قیام میں کھڑے تھے ، تلاوت ہو رہی تھی۔نبی کریم صلی علی کم کھڑے ہو کر آپ کی تلاوت سننے لگے۔پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود رکوع میں گئے پھر سجدہ کیا۔آنحضور صلی الیم نے فرمایا کہ اے عبد اللہ اب جو مانگو گے وہ تمہیں عطا کیا جائے گا۔