اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 184
اصحاب بدر جلد 5 184 بہر حال یہ بنیادی نکتہ آنحضرت صلی کام نے شروع میں اپنے صحابہ کو بتا دیا۔اس پر حضرت عمرؓ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور واپس لوٹ گئے۔11 خلافت کے لئے کمیٹی کا تقرر 401 حضرت مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب جب صحیح حالت میں تھے تو آپ سے درخواست کی جاتی کہ آپ کسی کو خلیفہ مقرر فرما دیں لیکن آپ انکار فرماتے۔پھر ایک روز آپ منبر پر تشریف لائے اور چند باتیں کہیں اور فرمایا: اگر میں مر جاؤں تو تمہارا معاملہ ان چھ افراد کے ذمے ہو گا جنہوں نے رسول اللہ صلی علیکم کو اس حالت میں چھوڑا ہے جبکہ آپ ان سب سے راضی تھے۔حضرت علی بن ابوطالب اور آپ کے نظیر حضرت زبیر بن العوام ، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور آپ کے نظیر حضرت عثمان بن عفانؓ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور آپ کے نظیر حضرت سعد بن مالک۔فرمایا خبر دار ! میں تم سب کو فیصلہ کرنے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور تقسیم میں انصاف اختیار کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ابو جعفر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے شوری کے اراکین سے کہا کہ اپنے معاملے میں آپس میں مشورہ کرو پھر اگر دو دو ہوں تو پھر دوبارہ مشورہ کرو اور اگر چار اور دو ہوں تو اکثریت کی تعداد کو اختیار کرو۔زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر تین اور تین کی رائے متفق ہو جائے تو جس طرف حضرت عبد الرحمن بن عوف ہوں گے اس طرف کے لوگوں کی سنو اور اطاعت کرو۔عبد الرحمن بن سعید بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر زخمی ہوئے تو آپ نے فرمایا: صہیب تم لوگوں کو نماز پڑھائیں گے یعنی حضرت صہیب کو امام الصلوۃ مقرر کیا اور یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی۔اپنے اس معاملے میں مشاورت کرو اور یہ معاملہ ان چھ افراد کے سپر د ہے۔جو شخص تمہارے حکم میں تر قد کرے یعنی جو تمہاری مخالفت کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔اگلا حکم جو ہے جب ضرورت پڑے، جب انتخاب خلافت ہو تو ان چھ افراد پر ہو گا۔اس وقت تک حضرت صہیب جو ہیں وہ امامت کرواتے رہیں گے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنی وفات سے کچھ گھڑی قبل حضرت ابو طلحہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا اے ابو طلحہ ! تم اپنی قوم انصار میں سے پچاس افراد کو لے کر ان اصحاب شوری کے پاس چلے جاؤ اور انہیں تین دن تک نہ چھوڑنا یہاں تک کہ وہ اپنے میں سے کسی کو امیر نہ منتخب کر لیں۔اے اللہ تو ان پر میرا خلیفہ ہے۔انتخاب خلافت حضرت عثمان اسحاق بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کچھ دیر حضرت عمر کی قبر پر رکے۔پھر اس کے بعد اصحاب شوری کے ساتھ رہے۔پھر جب ان اصحاب شوری نے اپنا معاملہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سپر د کر دیا کہ وہ اختیار رکھتے ہیں کہ جس کو بھی امیر مقرر کر دیں تو