اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 132
اصحاب بدر جلد 5 132 298 تم دونوں کے اس سفر سے بہتر نہیں ہوں گی جو تم نے پیدل گرتے پڑتے کیا ہے۔جو اس کا ثواب ہے اور جو اس کا اجر ملے گا اور جو اس کی برکات ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔غزوه حمراء الاسد کی تفصیل کہ یہ کیا تھا جس کے لیے یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ نام کے پیچھے گئے تھے اس کے بارے میں کچھ تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے۔نبی کریم اور آپ کے اصحاب کی غزوۂ احد سے واپسی اور غزوہ حمراء الاسد کی تفصیل اس طرح ہے کہ احد کی جنگ کے بعد مدینہ میں جو رات تھی ایک سخت خوف کی رات تھی کیونکہ باوجو داس کے کہ بظاہر لشکر قریش نے مکہ کی راہ لے لی تھی یہ اندیشہ تھا کہ یہ فعل مسلمانوں کو غافل کرنے کی نیت سے نہ ہو۔بظاہر تو احد کی جنگ میں وہ جیتے ہوئے تھے اور مکہ واپس لوٹ رہے تھے لیکن مسلمانوں کو یہ فکر تھی کہ کہیں یہ نہ ہو کہ یہ بھی کوئی چال ہو اور مدینے پر حملہ کرنے کے لیے پھر واپس لوٹ آئیں اور اچانک لوٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہو جائیں۔لہذا اس رات کو مدینے میں اسی احتیاط کی وجہ سے ، شک کی وجہ سے پہرے کا انتظام کیا گیا اور آنحضرت صلی علی نیم کے مکان کا خصوصیت سے تمام رات صحابہ نے پہرہ دیا۔صبح ہوئی تو پتا لگا کہ یہ اندیشہ محض خیالی نہیں تھا کیونکہ فجر کی نماز سے قبل آنحضرت صلی للہ ہم کو یہ اطلاع پہنچی کہ قریش کا لشکر مدینے سے چند میل کے فاصلے پر ٹھہر گیا ہے اور رؤسائے قریش میں یہ سرگرم بحث جاری ہے کہ اس فتح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیوں نہ مدینے پر حملہ کر دیا جائے اور بعض قریش ایک دوسرے کو طعنہ دے رہے تھے کہ نہ تو تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کیا اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال و متاع پر قابض ہوئے، قبضہ کیا بلکہ جب تم ان پر غالب آئے اور تمہیں یہ موقع ملا کہ تم ان کو ملیا میٹ کر دیتے تو تم انہیں یونہی چھوڑ کر واپس چلے آئے ہو تا کہ وہ پھر زور پکڑ جائیں۔پس اب بھی موقع ہے کہ واپس چلو اور مدینے پر حملہ کر کے مسلمانوں کی جڑ کاٹ دو۔اس کے مقابل بعض دوسرے یہ بھی کہتے تھے کہ تمہیں ایک فتح حاصل ہوئی ہے۔اسے غنیمت سمجھو اور مکہ واپس لوٹ چلو۔ایسا نہ ہو کہ یہ شہرت بھی کھو بیٹھو جو تمہیں حاصل ہوئی ہے اور یہ فتح جو ہے وہ شکست کی صورت میں بدل جائے کیونکہ اب اگر تم لوگ واپس کوٹے اور مدینے پر حملہ آور ہوئے تو یقیناً مسلمان جان توڑ کر لڑیں گے اور جو لوگ احد میں شامل نہیں ہوئے تھے وہ بھی میدان میں نکل آئیں گے۔مگر بالآخر جو شیلے لوگوں کی رائے غالب آئی اور قریش مدینہ کی طرف واپس لوٹنے کے لیے تیار ہو گئے۔آنحضرت صلی علی کم کو جب ان واقعات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فوراً اعلان فرمایا کہ مسلمان تیار ہو جائیں مگر ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ سوائے ان لوگوں کے جو احد میں شریک ہوئے تھے اور کوئی شخص ہمارے ساتھ نہ نکلے۔چنانچہ احد کے مجاہدین جن میں سے اکثر زخمی تھے (اور دوزخمیوں کا ذکر تو میں نے کر ہی دیا) اپنے زخموں کو باندھ کر اپنے آقا کے ساتھ ہو لیے اور لکھا ہے کہ اس موقعے پر مسلمان ایسی خوشی اور جوش کے ساتھ نکلے کہ جیسے کوئی فاتح لشکر فتح کے بعد دشمن کے تعاقب میں نکلتا ہے۔آٹھ میل کا فاصلہ طے کر کے آپ صلی امید کم حمراء الاسد میں پہنچے جہاں دو مسلمانوں کی نعشیں، لاشیں ان کو میدان میں پڑی ہوئی ملی تھیں۔تحقیقات