اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 127

اصحاب بدر جلد 5 127 پیدا ہو جاتا کہ حضرت خالد بن ولید نے بعض مسلمانوں کے کہنے سے جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ مسلمانوں کو فتح دی اور وہ خیریت سے لشکر کو واپس لے آئے۔285 حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا اخلاص ووفا یہ واقعہ جو میں اب بیان کرنے لگا ہوں، یہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے لیکن اس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے اخلاص و وفا اور آنحضرت صلی علیم سے محبت کا اظہار اور اسلام سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔اس لیے یہ یہاں بیان کرناضروری ہے۔حضرت عروہ سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید نے انہیں بتایا کہ نبی صلی علیکم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور اس کے پیچھے فدک کے علاقے کی چادر تھی۔آپ نے اپنے پیچھے اسامہ کو بٹھایا ہوا تھا۔آپ حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لیے بنو حارث بن خزرج قبیلہ میں تشریف لے گئے۔یہ بدر کے واقعے سے پہلے کی بات ہے۔آپ صلی علی یکم ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرکین اور یہود ملے جلے بیٹھے تھے۔ان میں عبد اللہ بن ابی بھی تھا اور اس مجلس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی تھے۔جب مجلس میں سواری کی گرد پہنچی تو عبد اللہ بن ابی نے اپنی ناک اپنی چادر سے ڈھانک لی۔پھر کہنے لگا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔نبی صلی علیم نے انہیں السلام علیکم کہا پھر ٹھہرے اور سواری سے اترے اور انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان پر قرآن پڑھا۔عبد اللہ بن ابی کہنے لگا کہ اے ں! یہ اچھی بات نہیں۔جو تم کہتے ہو اگر وہ سچ ہے تو ہماری مجالس میں ہمیں تکلیف نہ دو اور اپنے ڈیرے کی طرف لوٹ جاؤ اور جو تمہارے پاس آئے اس کے پاس بیان کرو۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے فورا عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ ہماری مجالس میں تشریف لایا کریں۔ہم یہ پسند کرتے ہیں۔اور اس وقت انہوں نے کوئی خوف نہیں کھایا اور کسی کی کوئی پروا نہیں کی۔بعد میں وہاں جھگڑا بھی ہوا لیکن بہر حال ان کا اپنا ایک کردار تھا۔286 مہم کی نماز جمعہ سے زیادہ اہمیت ہے حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی علی کریم نے ایک مہم میں اصحاب کو بھیجا جس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی شامل تھے۔جمعے کا دن تھا۔مہم میں شامل باقی اصحاب تو روانہ ہو گئے انہوں نے کہا، عبد اللہ بن رواحہ نے کہا کہ پیچھے رہ کر جمعے کی نماز رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ ادا کر کے میں ان سے جا ملوں گا۔پھر جب وہ رسول اللہ صلی علیم کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا تجھے کس چیز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہونے سے روک دیا؟ انہوں نے عرض کی کہ میری خواہش تھی کہ میں آپ کے ہمراہ نماز جمعہ ادا کروں پھر ان سے جاملوں۔حضور نے فرمایا کہ زمین میں جو کچھ ہے اگر تم وہ سب خرچ کر ڈالو توجو لوگ مہم پر روانہ ہو گئے ہیں تم ان کے فضل کو نہیں پاسکتے۔87 اس لیے فرمایا کہ جو مہم میں نے روانہ کی ہے اس کی اس وقت نماز جمعہ سے زیادہ اہمیت ہے۔