اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 124

اصحاب بدر جلد 5 124 اور اسے برپا نہیں ہونے دیتے۔راوی نے کہا کہ نبی کریم صلی علی کریم نے فرمایا اے اللہ ! ان پر رحمت کر۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہ واجب ہو گئی۔آنحضرت صلی للی کم کی دعا ہی سے یہ رحمت تو واجب ہو گئی۔حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم جب حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو آپ کے لیے اپنے بستر سے نہ اٹھ سکے۔آپ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں؟ لوگوں نے عرض کی۔مسلمان کا قتل ہونا شہادت ہے۔فرمایا تب تو میری امت کے شہداء کم ہیں۔آنحضرت صلی للی یکم نے فرمایا کہ مسلمان کا قتل ہونا شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری سے فوت ہو ناشہادت ہے اور پانی میں ڈوب کر فوت ہونا شہادت ہے اور وہ عورت جس کی زچگی میں وفات ہو جاتی ہے یہ سب شہادت کی اقسام ہیں۔278 جنگ موتہ میں سپہ سالار لشکر۔۔۔ج حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ کو سردار لشکر بنایا اور فرمایا کہ اگر یہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابو طالب ان کی جگہ پر ہوں۔پھر اگر حضرت جعفر" بھی شہید ہو جائیں تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ سردار بنیں۔اگر عبد اللہ بھی شہید ہوں تو مسلمان جس کو پسند کریں اس کو اپنا سر دار بنا لیں۔پس جب لشکر تیار ہو گیا اور اہل لشکر کوچ کرنے لگے تو لوگوں نے رسول اللہ صلی ایم کے سرداروں کو رخصت کیا اور ان کو سلامتی کی دعا دی۔جب لوگوں نے رسول اللہ صلی علیم کے سرداروں کو اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو رخصت کیا تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ رونے لگے۔لوگوں نے رونے کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ بخدا مجھے دنیا کی محبت اور اس کی شدید خواہش اور شوق نہیں ہے بلکہ میں نے رسول اللہ صلی علیہ کم کو یہ آیت پڑھتے سنا ہے کہ وَ اِن مِنْكُمْ الا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْنا مَقْضِيَّا (مریم:72) کہ اور تم میں سے کوئی نہیں مگر وہ ضرور اس میں جانے والا ہے یعنی دوزخ ہیں۔یہ تیرے رب پر ایک طے شدہ فیصلے کے طور پر فرض ہے۔پس میں نہیں جانتا کہ پل صراط چڑھنے اور پار اترنے میں میرا کیا حال ہو گا۔اس سے پہلے کی آیت میں دوزخ کا ذکر ہے۔اس لیے ان کو خوف پیدا ہوا تھا ورنہ دوسری آیات میں صاف ظاہر ہے کہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے بارے میں یہ ذکر نہیں ہے۔بہر حال مسلمانوں نے کہا کہ اللہ تمہارے ہمراہ ہے۔وہی تم کو ہم تک خیر و خوبی سے واپس لائے گا۔تفسیر صغیر کے حاشیے میں لکھا ہے اور تفسیر کبیر میں دونوں طرح ہے کہ ایک تو یہ مومنوں کے لیے نہیں ہے کافروں کے لیے ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور احادیث سے اس بارے میں تشریح بھی فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے جو تفسیر صغیر کے حاشیے میں بھی لکھا ہے کہ " قرآن مجیوں سے معلوم ہو تا ہے کہ دوز خیں دو ہیں۔ایک اس دنیا کی، ایک اگلے جہان کی۔یہ جو فرمایا ہے کہ ہر ایک دوزخ میں جائے گا اس سے یہ مراد نہیں کہ مومن بھی دوزخ میں جائیں گے۔بلکہ یہ مراد ہے کہ مومن دوزخ کا حصہ اسی دنیا میں پالیتے ہیں۔یعنی کفار انہیں قسم قسم کی تکالیف دیتے ہیں۔ورنہ مومن قرآن