اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 112

اصحاب بدر جلد 5 112 آپ کا تعلق قبیلہ بنو اسد سے تھا اور قبیلہ کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ آپ بنی عبد شمس کے حلیف تھے جبکہ بعض کے نزدیک حرب بن امیہ کے حلیف تھے۔254 حضرت عبد اللہ بن جحش کے قدوقامت کے بارے میں آتا ہے کہ نہ دراز قد تھے ، نہ ہی پست قد تھے۔آپ کے سر کے بال نہایت گھنے تھے۔255 ایک فہم کے موقع پر آپ کو امیر مقرر کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمایاوہ آپ کی سخت جانی، مستقل مزاجی اور بے خوفی کا اظہار کرتا ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم پر ایک ایسے آدمی کو امیر مقرر کر کے بھیجوں گاجو اگر چہ تم سے زیادہ بہتر نہیں ہو گا لیکن بھوک اور پیاس کی برداشت میں تم سے زیادہ مضبوط ہو گا۔پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبد اللہ بن جحش کی امارت میں مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ کی طرف گئے۔256 اس مہم میں کامیابی کے بعد جو مالِ غنیمت ملا اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اس سریہ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کے متعلق بعض کا خیال ہے کہ یہ پہلا مالِ غنیمت ہے جس کو مسلمانوں نے حاصل کیا۔حضرت عبد اللہ بن جحش نے اس مال غنیمت کو پانچ حصوں میں منقسم کر کے بقیہ چار حصوں کو تقسیم کر دیا اور ایک کو بیت المال کے لیے رکھ لیا۔یہ پہلا حمس تھا جو اسلام میں اس دن مقرر ہوا۔امام شعبی سے روایت ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جھنڈے کی ابتدا حضرت عبد اللہ بن جس نے کی۔نیز سب سے پہلا مالِ غنیمت حضرت عبد اللہ بن جحش کا حاصل کیا ہوا تقسیم کیا گیا۔258 257 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ گر زبن جابر یہ مکہ کا ایک رئیس تھا جس نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر جو شہر سے صرف تین میل کے فاصلے پر تھی اچانک چھاپہ مارا۔( یہ اور مہم ہے ) اور مسلمانوں کے اونٹ وغیرہ ہانک کر لے گیا۔اس کے اچانک حملے نے طبعاً مسلمانوں کو بہت متوحش کر دیا اور چونکہ رؤسائے قریش کی یہ دھمکی پہلے سے موجود تھی کہ ہم مدینہ پر حملہ آور ہو کر مسلمانوں کو تباہ وبرباد کر دیں گے، مسلمان سخت فکر مند ہوئے اور انہی خطرات کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات وسکنات کا زیادہ قریب سے ہو کر علم حاصل کیا جاوے تاکہ اس کے متعلق ہر قسم کی ضروری اطلاع بر وقت میسر ہو جاوے اور مدینہ ہر قسم کے اچانک حملوں سے محفوظ رہے۔(ہاں یہ جو پہلے ذکر ہو چکا ہے وہ اسی مہم کے بارے میں آپ فرمارہے ہیں) پھر کہتے ہیں چنانچہ اس غرض سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ مہاجرین کی ایک پارٹی تیار کی اور مصلحتاً اس پارٹی میں ایسے آدمیوں کو رکھا جو قریش کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے تاکہ قریش کے مخفی ارادوں کے متعلق خبر حاصل کرنے