اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 108

اصحاب بدر جلد 5 108 انکار کر کے اور مسجد حرام کی حرمت کو باطل کر کے اس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال کر کتنے ناپسندیدہ افعال کے مرتکب ہوئے ہو۔جب تم خود ان قبیح حرکات کے مرتکب ہو چکے ہو تو تم مسلمانوں کو کس منہ سے اعتراض کرتے ہو۔ان سے تو صرف نادانستہ طور پر ایک غلطی ہوئی ہے۔مگر تم تو جانتے بوجھتے ہوئے یہ سب کچھ کر رہے ہو۔245 سریہ عبد اللہ بن جحش کے مثبت نتائج بخاری کی ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے سریہ عبد اللہ بن جحش کے مثبت نتائج کا ذکر کرتے ہوئے اس کی وضاحت میں لکھا کہ " واقعات بتاتے ہیں کہ اس وفد کو جس غرض کے لئے روانہ کیا گیا تھا اس میں ان کو پوری کامیابی ہوئی اور انہوں نے قیدیوں کے ذریعہ سے قریش مکہ کے منصوبہ اور ان کی نقل و حرکت سے متعلق یقینی اطلاعات حاصل کیں۔حضرمی کے قافلے کا واقعہ ایک ضمنی اور اتفاقی حادثہ تھا اور بعض مورخین نے جو اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اس مہم کے بعض افراد کو مہاجرین کے غصب شدہ اموال کی تلافی کا خیال پیدا ہوا تھا، یہ رائے صحیح نہیں۔بلکہ اس مہم کا اصل مقصد صرف یہ تھا کہ حضرمی والے قافلے کے ذریعہ ابو سفیان بن حرب کی قیادت میں جانے والے قافلے کی غرض و غایت اور قریش مکہ کے منصوبہ جنگ کے بارہ میں یقینی معلومات حاصل ہو جائیں اور یہی کام بصیغہ راز ان کے سپر د کیا گیا تھا۔اس لئے انہوں نے اس مختصر قافلے کو اپنے قبضہ میں لانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔یہ خیال بہت دُور کا ہے کہ وہ بھیجے تو گئے تھے قریش مکہ کی جنگی تیاریوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے لیکن انہوں نے قافلے کے کوٹنے پر قناعت کر کے آنحضرت صلی علیم کے پاس واپس ہونے کو کافی سمجھ لیا۔حضرت عبد اللہ بن جحش بڑے پایہ کے صحابی تھے اور آنحضرت صلی یہ کرم کے پھوپھی زاد بھائی۔آپ نے ایک قابل اعتمادر از دار کو اس مہم کے لئے منتخب فرمایا۔جب آنحضرت صلی اللہ ہم کو قریش مکہ کی جنگی تیاریوں کے متعلق علم ہو گیا تو آپ نے بھی تیاری شروع کر دی اور اس تیاری میں پوری رازداری 24611 سے کام لیا۔" وہ لکھتے ہیں کہ بیشک مغازی میں ایسی روایتیں آتی ہیں یعنی جو جنگوں کی روایات ہیں ان میں یہ آتی ہیں کہ آنحضرت صلی لی ایم نے حضرت عبد اللہ بن جحش اور آپ کے ساتھیوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔لیکن یہ ناراضگی اس لحاظ سے بجا تھی کہ ان کی مہم سے متعلق ایسی صورت پیدا ہو گئی تھی جو فتنہ کا موجب بن سکتی تھی۔مگر بسا اوقات بعض امور جو بظاہر غلطیاں معلوم ہوتے ہیں منشائے الہی کے تحت صادر ہوتی ہیں اور بعض معمولی واقعات عظیم الشان نتائج پر منتج ہو جاتے ہیں۔پس عین ممکن تھا کہ حضرت عبد اللہ بن جحش کی مہم نہ بھیجی جاتی اور ان سے جو کچھ ہو اوہ نہ ہوتا اور ابو سفیان کی سر کردگی میں شام سے آنے والا قافلہ مگہ میں بلا خطر پہنچ جاتا تو قریش اس قافلے سے فائدہ اٹھا کر بہت بڑی تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور