اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 107

107 اصحاب بدر جلد 5 کہ چونکہ تم نے ہمارے آدمیوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔اس لئے اب تمہارے لئے ایک ہی راہ ہے کہ یا تو تم ان سب کو قتل کر دو یا د بینہ سے باہر نکال دوور نہ ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم مدینہ پر حملہ کر دیں گے اور تم سب کو قتل کر کے تمہاری عورتوں پر قبضہ کر لیں گے۔اور پھر انہوں نے صرف دھمکیوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔رسول کریم صلی علیم کی ان ایام میں یہ کیفیت تھی کہ بسا اوقات آپ ساری ساری رات جاگ کر بسر کرتے تھے۔اسی طرح صحابہ رات کو ہتھیار باندھ کر سویا کرتے تھے تاکہ رات کی تاریکی میں دشمن کہیں اچانک حملہ نہ کر دے۔ان حالات میں رسول کریم صلی الم نے ایک طرف تو مدینہ کے قریب، قرب وجوار میں بسنے والے قبائل سے معاہدات کرنے شروع کر دیئے کہ اگر ایسی صورت پیدا ہو تو وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے اور دوسری طرف ان خبروں کی وجہ سے کہ قریش حملہ کی تیاری کر رہے ہیں آپ نے 2 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن جحش کو بارہ آدمیوں کے ساتھ نخلہ بھجوایا اور انہیں ایک خط دے کر ارشاد فرمایا کہ اسے دو دن کے بعد کھولا جائے۔حضرت عبد اللہ بن جحش نے دو دن کے بعد کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ تم نخلہ میں قیام کرو اور قریش کے حالات کا پتہ لگا کر ہمیں اطلاع دو۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس دوران میں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ جو شام سے تجارت کا مال لے کر واپس آرہا تھا وہاں سے گزرا۔حضرت عبد اللہ بن جحش نے ذاتی اجتہاد سے کام لے کر ان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار میں سے ایک شخص عمرو بن الحضرمی مارا گیا اور دو گر فتار ہوئے اور مال غنیمت پر بھی مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔جب انہوں نے مدینہ میں واپس آکر رسول کریم صلی علیکم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں لڑائی کی اجازت نہیں دی تھی اور مال غنیمت کو بھی قبول کرنے سے آپ صلی یم نے انکار کر دیا۔ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جحش اور ان کے ساتھیوں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ابھی رجب شروع نہیں ہوا حالانکہ رجب کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔وہ خیال کرتے رہے کہ ابھی تھیں جمادی الثانی ہے۔رجب کا آغاز نہیں ہوا۔بہر حال عمر و بن الحضرمی کا مسلمانوں کے ہاتھوں مارا جانا تھا کہ مشرکین نے اس بات پر شور مچانا شروع کر دیا کہ اب مسلمانوں کو ان مقدس مہینوں کی حرمت کا بھی پاس نہیں رہا جن میں ہر قسم کی جنگ بند رہتی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بیشک ان مہینوں میں لڑائی کرنا سخت ناپسندیدہ امر ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکا جائے اور خد اتعالیٰ کی توحید کا انکار کیا جائے اور مسجد حرام کی حرمت کو باطل کیا جائے اور اس کے باشندوں کو بغیر کسی جرم کے محض اس لئے کہ وہ خدائے واحد پر ایمان لائے تھے اپنے گھروں سے نکال دیا جائے۔تمہیں ایک بات کا خیال تو آگیا مگر تم نے یہ نہ سوچا کہ تم خود کتنے بڑے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہو اور خدا اور اس کے رسول کا