اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 103
اصحاب بدر جلد 5 103 ایک ہاتھ کے اٹھنے پر اٹھو اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جاؤ۔جب تک یہ روح زندہ رہے گی مسلمان بھی زندہ رہیں گے اور جس دن یہ روح مٹ جائے گی اس دن اسلام تو پھر بھی زندہ رہے گا مگر خد اتعالیٰ کا ہاتھ ان لوگوں کا گلا گھونٹ کر رکھ دے گا جو محمد رسول اللہ صلی علیکم کی اطاعت سے انحراف کرنے والے ہوں گے۔234 کامل اطاعت ہی کامیابیوں کی ضمانت ہے آج دیکھ لیں کہ یہی حال مسلمانوں کا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مدد ان سے اٹھ گئی ہے۔آنحضرت صلی علیکم کے ارشاد کے مطابق کہ آنے والے مسیح و مہدی کو مان لینا، اسے میر اسلام پہنچانا اور اسے حکم اور عدل سمجھنا ان سب باتوں کی تاویلیں اب یہ لوگ کرنے لگ گئے ہیں اور اس کا نتیجہ بھی یہ دیکھ لیں۔پس یہاں احمدیوں کے لئے بھی ایک سبق ہے، ایک تنبیہ ہے کہ مسیح موعود کو قبول کر کے پھر کامل اطاعت ہی کامیابیوں اور فتوحات کی ضمانت ہے۔کپس ہر ایک کو اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک اس کے اطاعت کے معیار ہیں۔یہاں پہلے بیان ہوا تھا کہ ابوسفیان کے ساتھ عکرمہ بن ابو جہل تھے۔دوسرے ایک حوالے میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دوسرے صحابی عمرو بن عاص کا ذکر کیا کہ انہوں نے دریے پر حملہ کیا۔بعض دوسری روایات میں دوسرے نام بھی ہیں۔اس بارے میں ریسرچ سیل نے جو مزید تحقیق کی ہے وہاں بھی کتب سیرت میں خالد بن ولید کے ساتھ عکرمہ کے حملے کا ذکر ہی ملتا ہے۔235 236 لیکن یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ مشرکین نے اپنے لشکر کے گھڑ سواروں کو جن کی قیادت میں دیا تھا ان میں سے ایک عمر و بن عاص بھی تھے۔تو اس ضمن میں یہ کہتے ہیں کہ خالد بن ولید نے پہاڑ کے دڑے پر خالی جگہ دیکھ کر گھڑ سواروں کے ساتھ حملہ کیا اور عکرمہ بن ابو جہل ان کے پیچھے پیچھے آیا۔یوں ان تینوں امور کو اگر ایک طرف سے دیکھا جائے تو پھر حضرت مصلح موعودؓ کے اس حوالے میں بھی اور باقی تاریخ کی کتابوں میں بھی اس طرح مطابقت پیدا کی جاسکتی ہے کہ چونکہ مشرکین کے گھڑ سواروں کے نگران حضرت عمرو بن عاص تھے اس لئے یہ بھی ساتھ ہوں گے۔یعنی خالد بن ولید ، عکرمہ اور عمر ابن العاص تینوں ساتھ ہوں گے۔اور اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پھر روایت میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔حضرت عبد اللہ بن جبیر کی درد ناک شہادت حضرت عبد اللہ بن جبیر کی شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ جب خالد بن ولید اور عکرمہ بن ابو جہل حملہ آور ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن جبیر نے تیر چلائے یہاں تک کہ آپ کے تیر ختم ہو گئے۔پھر آپ نے نیزے سے مقابلہ کیا حتی کہ آپ کا نیزہ بھی ٹوٹ گیا۔پھر آپ نے اپنی تلوار سے لڑائی کی یہاں تک کہ آپ شہید ہو کر گرے۔آپ کو عکرمہ بن ابو جہل نے شہید کیا۔جب آپ گر گئے تو دشمنوں نے آپ کو گھسیٹا اور آپ کی نعش کا بدترین مثلہ کیا۔آپ کے جسم کو نیزے سے اتنا چیرا کہ آپ