اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 100

اصحاب بدر جلد 5 100 دھکیل دیئے گئے تھے کفار کے پیچھے ہٹتے ہی وہ پھر رسول اللہ صلی علی ظلم کے گرد جمع ہو گئے۔آپ کے جسم مبارک کو انہوں نے اٹھایا اور ایک صحابی عبیدہ بن الجراح نے اپنے دانتوں سے آپ کے سر میں ہوئی کیل کو زور سے نکالا جس سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے۔تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی ایم کو ہوش آگیا اور صحابہ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دیئے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہو جائیں۔بھاگا ہو الشکر پھر جمع ہو ناشروع ہوا اور رسول اللہ صلی علیم نہیں لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔جب دامن کوہ میں الله بچا کھچا لشکر کھڑا تھا تو ابوسفیان نے بڑے زور سے آواز دی اور کہا ہم نے محمد (صلی فیلم) کو مار دیا۔رسول اللہ صلی علیم نے ابو سفیان کی بات کا جواب نہ دیا تا ایسا نہ ہو دشمن حقیقت حال سے واقف ہو کر حملہ کر دے۔"کیونکہ مسلمان ابھی کمزور حالت میں تھے " اور زخمی مسلمان پھر دوبارہ دشمن کے حملہ کا شکار ہو جائیں۔جب اسلامی لشکر سے اس بات کا کوئی جواب نہ ملا تو ابوسفیان کو یقین ہو گیا کہ اُس کا خیال درست ہے اور اس نے بڑے زور سے آواز دے کر کہا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا۔رسول اللہ صلی ا ہم نے ابو بکر کو بھی حکم فرمایا کہ کوئی جواب نہ دیں۔پھر ابو سفیان نے آواز دی ہم نے عمر کو بھی مار دیا۔تب عمر جو بہت جو شیلے آدمی تھے انہوں نے اُس کے جواب میں یہ کہنا چاہا کہ ہم لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور تمہارے مقابلہ کے لئے تیار ہیں مگر رسول اللہ صلی علی یم نے منع فرمایا کہ مسلمانوں کو تکلیف میں مت ڈالو اور خاموش رہو۔اب کفار کو یقین ہو گیا کہ اسلام کے بانی کو بھی اور ان کے دائیں بائیں بازو کو بھی ہم نے مار دیا ہے۔اس پر ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے خوشی سے نعرہ لگا یا اُخْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل۔ہمارے معزز بت ہبل کی شان بلند ہو کہ اس نے آج اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔۔۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " وہی رسول کریم صلی یہ کام جو اپنی موت کے اعلان پر ، ابو بکر کی موت کے اعلان پر اور عمر کی موت کے اعلان پر خاموشی کی نصیحت فرمارہے تھے تا ایسانہ ہو کہ زخمی مسلمانوں پر پھر کفار کا لشکر کوٹ کر حملہ کر دے اور مٹھی بھر مسلمان اس کے ہاتھوں شہید ہو جائیں۔اب جبکہ خدائے واحد کی عزت کا سوال پیدا ہوا اور شرک کا نعرہ میدان میں مارا گیا تو آپ کی روح بیتاب ہو گئی اور آپ نے نہایت جوش سے صحابہ کی طرف دیکھ کر فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں ؟ فرمایا کہواللہ أغلى وَاجَلُ الله أغلى وَاجَلُ تم جھوٹ بولتے ہو کہ ہبل کی شان بلند ہوئی۔اللہ وحدہ لاشریک ہی معزز ہے اور اس کی شان بالا ہے۔اور اس طرح آپ نے اپنے زندہ ہونے کی خبر دشمنوں تک پہنچادی۔" فرماتے ہیں کہ " اس دلیرانہ اور بہادرانہ جواب کا اثر کفار کے لشکر پر اتنا گہرا پڑا کہ باوجود اس کے کہ ان کی امیدیں اس جواب سے خاک میں مل گئیں اور باوجود اس کے کہ ان کے سامنے مٹھی بھر زخمی مسلمان کھڑے ہوئے تھے جن پر حملہ کر کے ان کو مار دینا مادی قوانین کے لحاظ سے بالکل ممکن تھا لیکن اس نعرے کو سن کے ، یہ جوش دیکھ کر وہ دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے اور جس قدر فتح ان کو نصیب ہوئی تھی اسی کی خوشیاں مناتے ہوئے مکہ کو واپس چلے گئے۔" 23311