اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 84

84 +4 اصحاب بدر جلد 5 پر واقع ایک شہر ہے۔اس کے باشندوں نے مسلمانوں سے جنگ کی۔وہاں ایک بہت بڑا دروازہ تھاجو لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے بغیر نہیں کھلتا تھا۔حضرت عبادہ لشکر کو شہر سے دور لے گئے اور اسے ایسے گڑھے کھودنے کا حکم دیا جس میں ایک آدمی اور اس کا گھوڑا اچھی طرح چھپ جائیں۔لمبی خندق کھو دیں۔مسلمانوں نے گڑھے کھودنے میں بڑی کوشش کی اور جب اس کام سے فارغ ہو چکے تو دن کی روشنی میں حمص کی جانب واپس جانا ظاہر کیا اور جب رات چھا گئی تو یہ لوگ اپنی چھاؤنی اور اپنی خندقوں کی طرف واپس آگئے جو کھودی تھیں۔اھلِ لاذقیہ دھوکے میں یہ سمجھتے رہے کہ وہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔جب دن چڑھا تو انہوں نے اپنا دروازہ کھولا اور اپنے مویشی لے کر نکلے۔مسلمان دفعہ نمودار ہوئے جنہیں دیکھ کر وہ لوگ دہل گئے۔مسلمانوں نے ان پر چڑھائی کر دی اور دروازے سے شہر میں داخل ہو گئے اور اس کو فتح کر لیا۔حضرت عبادہ قلعے میں داخل ہوئے۔اس کی دیوار پر چڑھے اور اسی پر سے تکبیر کہی۔لاذقیہ کے نصاری میں سے ایک قوم یسید کی طرف بھاگ گئی۔پھر ان لوگوں نے اس پر امان چاہی کہ انہیں ان کی زمین کی طرف واپس آنے دیا جائے۔پہلے تو ڈر کے چلے گئے لیکن پھر انہوں نے کہا کہ ہمیں امان دیں اور ہم واپس آنا چاہتے ہیں۔چنانچہ خراج کی ادائیگی پر زمین ان کے حوالے کر دی گئی کہ ایک حصہ آمد کا تم دوگے اور ان کو ان کی زمین واپس کر دی اور ان کی معبد گاہ ان کے لیے چھوڑ دی گئی۔جہاں وہ عبادت کرتے تھے وہ بھی ان کو واپس کر دی گئی کہ ٹھیک ہے تم جس طرح چاہتے ہو اپنی عبادت کرو۔مسلمانوں نے لاذقیہ میں حضرت عبادہ کے حکم سے ایک مسجد بنائی جو بعد میں وسیع کی گئی۔حضرت عبادہ اور مسلمان سمندر کے کنارے پہنچے اور بلدة نام کا ایک شہر فتح کیا جو جبلہ قلعہ سے دو فرسخ یعنی چھ میل کے فاصلے پر تھا۔حضرت عبادہ اور ان کے ساتھی مسلمانوں نے پھر کافی فتوحات کی ہیں۔ان کے ذریعہ سے انظر طوس فتح ہوا جو ملک شام میں سمندر کے کنارے واقع ایک شہر ہے۔اسی طرح پھر ملک شام کے علاقے لاذقيه ، جَبَله بَلْدَة انظر طوس حضرت عبادہ بن صامت کے ہاتھوں فتح ہوئے۔ایک دفعہ نبی کریم صلی سلیم نے حضرت عبادہ کو بعض صدقات کا عامل بنایا اور انہیں نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم اونٹ کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہو اور وہ بلبلاتا ہو یا گائے کو لا دے ہوئے آؤ اور اس کی آواز نکل رہی ہو یا بکری کو لادے ہوئے آؤ اور وہ ممیاتی ہو یعنی کہیں خیانت نہ ہو جائے۔ایسا نہ ہو کہ صدقات کی صحیح طرح حفاظت نہ کر سکو اور اس زمانے میں جو صدقات آتے تھے۔زکوۃ میں یا صدقات میں اونٹ گائے بکریاں وغیرہ جو چیزیں آرہی ہیں یہ نہ ہو کہ ان کی تقسیم کا اور ان کی حفاظت کا تم صحیح طرح حق نہ ادا کر سکو اور پھر قیامت کے دن وہی چیزیں تمہارے پہ بوجھ بن جائیں گی۔حضرت عبادہ بن صامت نے یہ سن کے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی الیہ ہم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں تو دو آدمیوں پر بھی عامل نہ بنوں گا۔میری تو یہ حالت ہے کہ میں تو کسی کا کوئی بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔اس لیے مجھے تو نہ ہی بنائیں تو ٹھیک ہے۔204