اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 64

اصحاب بدر جلد 5 64 شراقہ کو امن کا پروانہ دیا تو اس وقت جب سُراقہ لوٹنے لگا تو معا اللہ تعالیٰ نے سُراقہ کے آئندہ حالات آپ صلی اللہ ہم پر غیب سے ظاہر فرمادے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی للی نام پر غیب کے ذریعہ ظاہر فرمایا کہ آئندہ سراقہ کے ساتھ کیا حالات ہوتے ہیں اور ان کے مطابق آپ نے اسے فرمایا۔سراقہ ! اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے۔سراقہ نے حیران ہو کر پوچھا، کسری بن هرمز شہنشاہ ایران کے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! سراقہ کے ہاتھ میں کسری کے سونے کے کنگن پہنائے گئے الله آپ کی یہ پیشگوئی کوئی سولہ سترہ سال کے بعد جا کر لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔سراقہ مسلمان ہو کر مدینہ آگیا۔رسول کریم صلی یی کم کی وفات کے بعد پہلے حضرت ابو بکر پھر حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے۔اسلام کی بڑھتی ہوئی شان کو دیکھ کر ایرانیوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دئے اور بجائے اسلام کو کچلنے کے خود اسلام کے مقابلے میں کچلے گئے۔"ایرانیوں نے حملے شروع کئے تھے۔کسری کا دار الامارۃ اسلامی فوجوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہوا اور ایران کے خزانے مسلمانوں کے قبضے میں آئے۔جو مال اس ایرانی حکومت کا اسلامی فوجوں کے قبضے میں آیا اس میں وہ کڑے بھی تھے جو کسری ایرانی دستور کے مطابق تخت پر بیٹھتے وقت پہنا کرتا تھا۔سراقہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے اس واقعہ کو جو رسول کریم صلی الی یکم کی ہجرت کے وقت اسے پیش آیا تھا مسلمانوں کو نہایت فخر کے ساتھ سنایا کرتا تھا اور مسلمان اس بات سے آگاہ تھے کہ رسول اللہ صلی الم نے اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ سُراقہ ! اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھ میں کسری کے کنگن ہوں گے۔حضرت عمر کے سامنے جب اموال غنیمت لاکر رکھے گئے اور ان میں انہوں نے کسری کے کنگن دیکھے تو سب نقشہ حضرت عمرؓ کے سامنے، آپ کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔وہ کمزوری اور ضعف کا وقت جب خدا کے رسول کو اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا تھا، وہ سراقہ اور دوسرے آدمیوں کا آپ کے پیچھے اس لئے گھوڑے دوڑانا کہ آپ کو مار کر یا زندہ کسی صورت میں بھی مکہ والوں تک پہنچادیں تو وہ سو اونٹوں کے مالک ہو جائیں گے اور اس وقت آپ کا سراقہ سے کہنا کہ سراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے۔کتنی بڑی پیشگوئی تھی۔کتنا مصفی غیب تھا۔کتنی صاف غیب کی خبر تھی۔حضرت عمرؓ نے اپنے سامنے کسری کے کنگن دیکھے تو خدا کی قدرت ان کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔انہوں نے کہا سراقہ کو بلاؤ۔سراقہ بلائے گئے تو حضرت عمرؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کسری کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنیں۔سراقہ نے کہا۔اے خدا کے رسول کے خلیفہ !سونا پہنا تو مسلمانوں کے لئے منع ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں منع ہے۔ٹھیک ہے مردوں کے لئے سونا پہننا منع ہے مگر ان موقعوں کے لئے نہیں۔یہ وہ موقع نہیں ہے جہاں منع ہو۔اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی علی یم کو تمہارے ہاتھ میں سونے کے کنگن دکھائے تھے۔یا تو تم یہ کنگن پہنو گے یا میں تمہیں سزا دوں گا کیونکہ اب تو یہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور اس کا باقی حصہ بھی تمہیں پورا کرنا ہو گا۔سراقہ کا اعتراض تو محض شریعت