اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 43

43 178 اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب و کنیت حضرت عاصم بن عدی حضرت عاصم کے والد کا نام عدی تھا۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عجلان بن حارثہ سے تھا جو قبیلہ بنو زید بن 124 مالک کا حلیف تھا۔حضرت عاصم بنو عجلان کے سردار اور حضرت معن بن عدی کے بھائی تھے۔حضرت عاصم کی کنیت ابو بکر بیان کی جاتی ہے جبکہ بعض کے نزدیک ان کی کنیت ابو عبد اللہ ، ابو عمر اور ابو عمرو بھی تھی۔حضرت عاصم میانہ قد کے تھے اور بالوں پہ مہندی لگایا کرتے تھے۔حضرت عاصم کے بیٹے کا نام ابو البداح تھا۔123 حضرت عاصم کی بیٹی کا نام سھلہ تھا جس کی شادی حضرت عبد الرحمن بن عوف کے ساتھ ہوئی اور ان کے اس شادی سے چار بچے تھے تین بیٹے : معن عمر ، زید اور ایک بیٹی امتہ الرحمن صغریٰ۔مدینہ کے بالائی حصہ کا امیر مقرر ہونا اور اصحاب بدر میں شمار کیا جانا آنحضرت صلی ا م م ج ب بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو آپ صلی الم نے حضرت عاصم بن عدی کو قبا اور مدینہ کے بالائی حصہ "عالیہ" پر امیر مقرر فرمایا۔ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ روحاء مقام سے رسول اللہ صلی علیم نے حضرت عاصم کو مدینہ کے بالائی حصے عالیہ پر امیر مقرر کرتے ہوئے واپس بھیج دیا۔آنحضرت صلی الم نے حضرت عاصم کو واپس بھجوایا لیکن آپ کو اصحاب بدر میں شمار کیا اور ان کے لیے اموالِ غنیمت میں سے بھی حصہ مقرر فرمایا۔125 سیرت خاتم النبیین میں اس واقعے کی تفصیل اس طرح بیان ہوئی جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے کہ " مدینہ سے نکلتے ہوئے آپ نے اپنے پیچھے عبد اللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا امیر مقرر کیا تھا۔مگر جب آپ روحاء کے قریب پہنچے جو مدینہ سے 36 میل کے فاصلہ پر ہے تو غالباً اس خیال سے کہ عبد اللہ ایک نابینا آدمی ہیں اور لشکر قریش کی آمد آمد کی خبر کا تقاضا ہے کہ آپ کے پیچھے مدینہ کا انتظام مضبوط رہے آپ نے ابولبابہ بن منذر کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے واپس بھجوادیا اور عبد اللہ بن ام مکتوم کے متعلق حکم دیا کہ وہ صرف امام الصلوۃ رہیں۔مگر انتظامی کام ابولبابہ سر انجام دیں۔مدینہ کی بالائی آبادی یعنی قباء کے لیے آپ نے عاصم بن عدی کو الگ امیر مقرر فرمایا۔"126