اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 518
اصحاب بدر جلد 5 518 ذوالشمالین اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ یہ بائیں ہاتھ سے زیادہ کام کرتے تھے۔ذوالیدین کے لقب سے بھی یہ مشہور تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ہاتھ بہت لمبے تھے۔اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ دونوں ہاتھوں سے کام لیتے تھے اس لیے انہیں ذوالیدین بھی کہا جاتا تھا۔ان کا نام محمیر بن عَبدِ عمر و خُزاعی تھا۔جب وہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی علی کلم نے ان کے اور حضرت یزید بن حارث کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔عمیر بن عبد عمرو کا یہ ذکر یاذ والشمالین کا یہ ذکر اس لیے ہوا کہ ان کی مؤاخات یزید بن حارث کے ساتھ ہوئی تھی۔حضرت یزید اور حضرت ذوالشمالین دونوں کو غزوہ بدر میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی اور دونوں نے ہی اسی جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔نوفل بن معاویه دیلی نے حضرت یزید کو شہید کیا تھا اور ایک دوسرے قول کے مطابق قاتل کا نام طعيمه بن عَدِمی تھا۔کھجوریں پھینک کر لڑتے ہوئے شہید ہو گئے 1210 حضرت يزيد بن حارث نے جنگ بدر کے روز اپنے ہاتھ میں کھجوریں پکڑی ہوئی تھیں۔انہوں نے وہ پھینک کر لڑائی شروع کی اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔1211 319 نام و نسب و کنیت ย حضرت یزید بن رقيش " حضرت یزید بن رقیش " حضرت یزید کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو اسد بن خزیمہ سے تھا اور حضرت یزید بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔1212 بعض نے ان کا نام آریہ بھی بیان کیا ہے لیکن یہ درست نہیں۔3 1213 حضرت یزید کے والد کا نام رقیش بن رئاب تھا اور ان کی کنیت ابو خالد تھی۔تمام غزوات میں شامل حضرت یزید غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام دیگر غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ہمراہ شریک ہوئے۔حضرت یزید نے غزوہ بدر میں کلی قبیلے کے ایک شخص عمرو بن سفیان کو قتل کیا تھا۔4 1214