اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 497
اصحاب بدر جلد 5 497 رسول اللہ صلی علی ملک کے جانے کے بعد جب بھی میں ان لوگوں میں نکلتا اور ان میں چکر لگاتا تو مجھے بہ بات غمگین کر دیتی کیونکہ جو پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے اکثر میں ایسے ہی شخص کو دیکھتا جنہیں بوجہ نفاق کے حقارت سے دیکھا جاتا تھا۔کہتے ہیں جب میں مدینہ کی گلیوں میں نکلتا تو انہی لوگوں کو دیکھتا جن کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر تھا کہ ان میں نفاق پایا جاتا ہے یا کمزوروں میں سے ایسا شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے معذور ٹھہرایا تھا یا معذور تھے یا ایسے لوگ جو بزدل تھے اور جن کے دل میں نفاق تھا۔بہر حال کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے تبوک پہنچنے سے قبل مجھے یاد نہ کیا، میرے بارے میں نہ پوچھا اور آپ صلی الله یم تبوک میں لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے جب آپ نے پوچھا کہ کعب کہاں ہے ؟ بنو سلمہ میں سے ایک شخص نے کہا یار سول اللہ ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور اس کی اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھنے نے روک رکھا تھا یعنی ایک تو شاید پیسہ آگیا ہے یا کوئی تکبر پیدا ہو گیا ہے اس لیے نہیں آسکا۔حضرت معاذ بن جبل نے یہ سن کر کہا کیا بُری بات ہے جو تم نے کہی ہے۔انہوں نے کہا نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اس کے متعلق ہمیں اچھا ہی تجربہ ہے۔کعب کے بارے میں اب تک تو ہمارا تجربہ اچھا ہے۔نہ اس میں کوئی فخر ہے ، نہ تکبر ہے، نہ منافقت ہے۔تو رسول اللہ صلی کم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔حضرت کعب بن مالک کہتے تھے کہ جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپ جو اس سفر پہ نکلے تھے واپس آرہے ہیں تو مجھے فکر ہوئی اور میں جھوٹی باتیں سوچنے لگا کہ کس بات سے کل آپ کی ناراضگی سے بچ جاؤں۔کوئی بہانہ کروں اور اپنے گھر والوں میں سے ہر ایک اہل رائے سے میں نے اس بارے میں مشورہ لیا، لوگوں سے بھی پوچھا کہ کیا بہانہ ہو سکتا ہے۔جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلی الی یوم آن پہنچے تو میرے دل سے سارے جھوٹے خیالات کا فور ہو گئے۔سب بہانے نکل گئے۔سب جھوٹ نکل گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ میں کبھی بھی آپ کے غصے سے ایسی بات سے بچنے والا نہیں جس میں جھوٹ ہو۔اس لیے میں نے آپ سے سچ سچ بیان کرنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ صلی الی یکم تشریف لے آئے۔جب آپ صلی لی ہم کسی سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دور کعتیں نفل پڑھتے۔پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔جب آپ نے یہ کیا تو پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آگئے۔جو نہیں گئے تھے وہ آگئے اور آپ صلی سلیم سے غذر بیان کرنے لگے۔ہر ایک بہانے کرنے لگ گیا کہ اس کے نہ جانے کی کیا کیا وجہ تھی اور قسمیں کھانے لگے اور ایسے لوگ اتنی 80 سے کچھ اوپر تھے جو اس قسم کی قسمیں کھا کر ، غلط بیانیاں کر کے بہانے کر رہے تھے۔انہوں نے اپنے عذر بیان کیے۔رسول اللہ صلی الیم نے ان سے ان کے ظاہری عذرمان لیے اور ان سے بیعت لی اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کا اندرونہ اللہ کے سپر د کیا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے بظاہر تم یہ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کے سامان کرے۔باقی یہ معاملہ میں اللہ کے سپر د کر تا ہوں۔پھر کہتے ہیں کہ میں آپ صلی للی کمر کے پاس آیا جب میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ صلی للہ کی ناراض