اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 495 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 495

اصحاب بدر جلد 5 495 تھے۔ابن ہشام نے بدری صحابہ کی جو فہرست اپنی کتاب میں درج کی ہے اس میں حضرت ھلال کا نام شامل نہیں ہے تاہم بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں انہیں بدری صحابہ میں شمار کیا ہے۔7 ان تین صحابہ میں سے جو غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے 1157 حضرت هلال بن امیه ان تین انصار صحابہ میں سے تھے جو غزوہ تبوک میں بغیر کسی عذر کے شامل نہ ہو سکے تھے۔دوسرے دو صحابہ کعب بن مالک اور مرارة بن ربیع ” تھے۔ان کے بارے میں قرآن کریم میں یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی کہ وَ عَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحْبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَاَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللهَ هُوَ التَّوَابُ الرَّحِيمُ (التوبة: 118) اور ان تینوں پر بھی اللہ توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین ان پر باوجود فراخی کے تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں تنگی محسوس کرنے لگیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ نہیں مگر اسی کی طرف۔پھر وہ ان پر قبولیت کی طرف مائل ہوتے ہوئے جھک گیا تا کہ وہ تو بہ کر سکیں اور یقینا اللہ ہی بار بار تو بہ قبول کرنے والا 1158 اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔58 جنگ تبوک اور پیچھے رہ جانے والے غزوہ تبوک 9 ہجری میں ہو اتھا اور صحیح بخاری میں اس کے بارے میں ایک تفصیلی روایت بھی ہے جس میں ان تینوں صحابہ کے پیچھے رہ جانے کا تذکرہ بیان ہوا ہے۔حضرت کعب بن مالک کے پوتے عبد الرحمن اپنے والد عبد اللہ بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت کعب جب نابینا ہو گئے تو وہ انہیں پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میں نے حضرت کعب بن مالک کو وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔یہ جو لمبی روایت ہے یہ حضرت کعب کے حوالے سے ہے۔حضرت هلال بن امیه جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ان کا ذکر بیچ میں آجاتا ہے لیکن یہ ایک روایت ملتی ہے۔بہر حال وہ کہتے ہیں کہ حضرت کعب بن مالک کو وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا جبکہ وہ پیچھے رہ گئے تھے یعنی تبوک کا واقعہ۔حضرت کعب نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللیل کم سے کسی غزوے میں بھی پیچھے نہیں رہا جو آپ نے کیا ہو سوائے غزوہ تبوک کے۔ہاں غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تھا اور آپ صلی ہیں ہم نے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا جو اس جنگ سے پیچھے رہ گیا تھا۔رسول اللہ صلی ا یکم صرف قریش کے قافلے کو روکنے کے ارادے سے نکلے تھے مگر نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بغیر اس کے کہ جنگ کی ٹھانی ہو ان کو دشمن سے ٹکر ا دیا اور میں رسول اللہ صلی اللی ایم کے ساتھ عقبہ کی رات میں بھی موجود تھا۔بدر کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ بدر میں بھی شامل نہیں ہوا تھا لیکن اس میں نہ شامل ہونے کی وجہ سے آنحضرت صلی لی یم نے کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا تھا۔