اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 458

اصحاب بدر جلد 5 458 سے آپ حضرت ابو بکر کی بیعت نہ کر سکے اور جب آپ بیعت کرنے کے لئے آئے تو آپ نے یہ معذر بھی کی کہ چونکہ فاطمہ بیمار تھیں اس لئے میں بیعت میں مجھے دیر ہو گئی ہے۔19 الله 1049 بہر حال اس وقت سب نے بیعت کی۔حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی ایم کو وفات دی تو لوگ آپ صلی للہ تم پر روئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی الی تم سے پہلے مر جاتے ہمیں اندیشہ تھا کہ آپ صلی ال کلم کے بعد فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔حضرت معن جن کا ذکر ہو رہا ہے صحابی کا انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نہیں چاہتا تھا۔لوگ تو یہ کہہ رہے تھے کہ ہم پہلے مر جاتے حضرت معن نے کہا نہیں۔میں نہیں یہ چاہتا تھا کہ میں آپ صلی اللہ کم سے پہلے مر جاتا۔کیوں۔اس لئے کہ جب تک میں آپ صلی علیم کی وفات کے بعد بھی آپ صلی علیم کی اسی طرح تصدیق نہ کر لوں جیسا کہ آپ مسی لی ایم کی حیات میں آپ صلی علیم کی تصدیق کی تھی میں نے۔جس طرح میں نے آپ کو مانا تھا نبی اسی طرح اس بات کی تصدیق بھی نہ کر لوں وفات کے بعد کہ وہی نظام جس کی پیشگوئی آپ نے فرمائی تھی خلافت راشدہ کا وہ جاری ہو چکا ہے اور اسی کو جاری رکھنا ہے اور منافقین اور مرتدین کے جال میں نہیں آنا۔پس یہی وہ ایمان کا معیار ہے جسے ہر احمدی کو بھی اپنے اندر قائم کرنا چاہئے۔ایک روایت کے مطابق حضرت معن حضرت خالد بن ولید کے ہمراہ نبی کریم صلی علیکم کے بعد مرتدین اور باغیوں کی سرکوبی میں شامل تھے اور حضرت خالد بن ولید نے دو سو گھڑ سواروں کے ہمراہ حضرت معن کو یمامہ کی طرف بطور ہر اول دستے کے بھیجا تھا۔شہادت 1051 1050 آنحضرت صلی الم نے حضرت معن کا حضرت زید بن خطاب کے ساتھ عقد مؤاخات قائم فرمایا تھا۔ان دونوں اصحاب نے حضرت ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت میں جنگ یمامہ میں 12 ہجری میں شہادت پائی تھی۔1052 اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو بھی نبوت کے مقام کو بھی پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے اور خلافت کے ساتھ وفا اور اخلاص کا تعلق پیدا کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔1053