اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 448
اصحاب بدر جلد 5 448 1038 شریک ہوئے اور انہوں نے یوم الرجیع میں شہادت پائی۔رجیع کا جو واقعہ ہے کہ اس میں دس مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔اس واقعہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی لکھا ہے کہ " یہ دن مسلمانوں کے لئے سخت خطرے کے دن تھے اور آنحضرت صلی علیم کو چاروں طرف سے متوشش خبریں آرہی تھیں۔لیکن سب سے زیادہ خطرہ آپ کو قریش مکہ کی طرف سے تھا جو جنگ اُحد کی وجہ سے بہت دلیر اور شوخ ہو رہے تھے۔اس خطرے کو محسوس کر کے آنحضرت صلی ای کم نے ماہ صفر چار ہجری میں اپنے دس صحابیوں کی ایک پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ ملکہ کے قریب جا کر قریش کے حالات دریافت کریں اور ان کی کارروائیوں اور ارادوں سے آپ کو اطلاع دیں لیکن ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عضل اور قارہ کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں۔آپ چند آدمی ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں جو ہمیں مسلمان بنائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے ان کی یہ خواہش معلوم کر کے وہی پارٹی۔۔۔۔جو خبر رسانی کے لئے تیار کی گئی تھی ان کے ساتھ روانہ فرما دی۔لیکن دراصل جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ لوگ جھوٹے تھے اور بنو لختیان کی انگیخت پر مدینہ میں آئے تھے جنہوں نے اپنے رئیس سفیان بن خالد کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے یہ چال چلی تھی کہ اس بہانے سے مسلمان مدینہ سے نکلیں تو ان پر حملہ کر دیا جائے اور بنو لحیان نے اس خدمت کے معاوضہ میں عضل اور قارہ کے لوگوں کے لئے بہت سے اونٹ انعام کے طور پر مقرر کئے تھے۔جب عضل اور قارہ کے یہ غدار لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو انہوں نے بنو یخیان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھجوادی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آرہے ہیں تم آجاؤ۔جس پر قبیلہ بنو یخیان کے دو سو نوجوان جن میں سے ایک سو تیر انداز تھے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور مقام رجیع میں (رجیع ایک جگہ ہے) ان کو دبایا۔دس آدمی دو سو سپاہیوں کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے۔لیکن مسلمانوں کو ہتھیار ڈالنے کی تعلیم نہیں دی گئی تھی۔" اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں جو تمہیں گھیر لیا جائے تو پھر یہی حکم ہے کہ جنگ کرو۔" فورا یہ صحابی ایک قریب کے ٹیلے پر چڑھ کر مقابلے کے واسطے تیار ہو گئے۔کفار نے جن کے نزدیک دھو کہ دینا کوئی معیوب فعل نہیں تھا ان کو آواز دی کہ تم پہاڑی پر سے نیچے اتر آؤ ہم تم سے پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔عاصم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہمیں تمہارے عہد و پیمان پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے اور پھر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا کہ اے خدا تو ہماری حالت دیکھ رہا ہے۔اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔غرض عاصم اور ان کے ساتھیوں نے مقابلہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔جب سات صحابہ مارے گئے اور صرف خُبيب بن عدی اور زید بن دینہ اور ایک اور صحابی باقی رہ گئے تو کفار نے جن کی اصل خواہش ان لوگوں کو زندہ پکڑنے کی تھی پھر