اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 429
اصحاب بدر جلد 5 985 429 کہتے ہیں میں نے خواب دیکھی ہے کہ پانی میں ڈوب رہا ہوں اور آپ نے یعنی حضرت عمر نے مجھے بچایا ہے۔اس کے بعد حضرت معاذ حضرت ابو بکر کی خدمت میں آئے اور ساری بات ان سے بیان کی اور قسم کھا کر کہا کہ میں آپ سے کسی چیز کو بھی نہیں چھپاؤں گا جو میں نے لیا جس طرح لیا سب کچھ میرے سامنے ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں آپ سے کچھ بھی نہیں لوں گا۔ٹھیک ہے آپ نے اپنا سارا کچھ حساب کتاب مجھے بتادیا لیکن میں کچھ نہیں لوں گا۔میں نے تمہیں وہ سب ہدیہ دیا۔تحفہ کے طور پر تمہیں دے دیا ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ بہترین حل ہے۔35 حضرت عمررؓ بھی ساتھ تھے۔جب یہ بات ان کو پتہ لگی کہ جو کچھ ہے وہ خود حضرت معاذ کو دے رہے ہیں تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاں یہ ٹھیک ہے اب کیونکہ خلیفہ وقت نے فیصلہ کر دیا ہے تو کامل ا اطاعت کے ساتھ اس کو قبول کر لیا۔ان کو اس سے غرض نہیں تھی کہ کیوں لیا جارہا ہے۔ان کو یہ تھا کہ آنحضرت صلی علی یکم کی وفات کے بعد اب یہ خلیفہ وقت کا فیصلہ ہونا چاہیے کہ یہ خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے یا اپنے پاس مال رکھ سکتے ہیں یا نہیں رکھ سکتے۔پہلے حضرت عمر زور دیتے رہے کہ لینا چاہیے لیکن جب حضرت ابو بکر نے فیصلہ کر دیا کہ میں نہیں لوں گا اور میں تحفہ کے طور پر دے رہا ہوں تو پھر حضرت عمرؓ کے پاس کوئی عذر نہیں تھا۔خاموشی سے کہا بالکل ٹھیک ہے۔یہ فیصلہ اس سارے معاملے کا بہترین حل ہے۔یہاں مزید وضاحت ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس وقت تک انہیں اس طرف متوجہ نہیں کیا جب تک حضرت معاذ کی ضرورت پوری نہیں ہو گئی اور جب آنحضرت صلی للی کم کی وفات بھی ہو گئی اور ان کی ضرورت بھی پوری ہو گئی، کشائش بھی پیدا ہو گئی، قرضے بھی اتر گئے تو خواب کے ذریعے خود ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت معاذ کو اس طرف توجہ دلا دی کہ اب نہیں۔اب اپنی جائیداد پہ ہی گزارا کر و۔اب نہ وہ ہدیہ بحیثیت امیر کے تم لے سکتے ہو نہ بیت المال میں سے خرچ کر سکتے ہو اور اس کے بعد وہ زیادہ عرصہ وہاں رہے بھی نہیں۔بہر حال یہ اس کی مختصر وضاحت ہے۔حضرت معاذ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا جب تمہیں کوئی معاملہ در پیش ہو گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔آپ صلی للہ کریم نے فرمایا اگر اللہ کی کتاب میں اس کا حکم نہ ملا تو ؟ انہوں نے عرض کیا۔پھر اللہ کے رسول صلی علیم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔آپ صلی علی ایم نے فرمایا اگر اللہ کے رسول کی سنت میں بھی اس کا حکم نہ ملاتو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں پھر اجتہاد سے اپنی رائے قائم کروں گا اور میں اس میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔معاذ نے بیان کیا کہ یہ باتیں سن کے رسول اللہ صلی ا ہم نے پھر میرے سینے پر ہاتھ مارا۔پھر فرمایا کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو ایسی بات کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کی خوشنودی کا باعث ہوئی۔حضرت معاذ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی نیلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو آپ نے فرمایا: 986