اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 421

اصحاب بدر جلد 5 421 اہل مدینہ کو فقہ میں اور جن امور میں وہ ان کو فتویٰ دیا کرتے تھے محتاج بنا دیا ہے۔حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر سے عرض کیا کہ لوگوں کو ان کی ضرورت ہے، انہیں روک لیں۔مگر حضرت ابو بکڑ نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ جس شخص نے ارادہ کر لیا ہو اور وہ شہادت چاہتا ہو میں اس کو نہیں روک سکتا۔969 حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے کہا بخدا آدمی کو اس کے بستر پر بھی شہادت عطا کر دی جاتی ہے۔خوف اور خشیت کا ایک مقام ثور بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل جب رات کو نماز تہجد ادا کرتے تھے تو یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! آنکھیں سوئی ہوئی ہیں اور ستارے ٹمٹمار ہے ہیں۔تو حتی وقیوم ہے۔اے اللہ ! جنت کے لیے میری طلب ست ہے اور آگ سے میر ابھا گنا کمزور اور ضعیف ہے۔اے اللہ میرے لیے اپنے ہاں ہدایت رکھ دے جسے قیامت کے روز تُو مجھے لوٹا دے۔یقینا تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔970 کیا خوف اور خشیت کا مقام ہے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الی یکم نے جبکہ حضرت معاذ پالان پر آپ کے پیچھے سوار تھے فرمایا اے مُعاذ بن جبل ! انہوں نے کہا یارسول اللہ ! حاضر ہوں، حضور کی خدمت میں ہوں۔آپ نے فرمایا اے معاذ! انہوں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپ کی خدمت میں ہوں۔فرمایا مُعاذ! انہوں نے کہا حاضر ہوں یارسول اللہ ! آپ کی خدمت میں ہوں۔تین بار آپ نے پکارا۔پھر فرمایا جو کوئی بھی اپنے دل کی سچائی سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں ہے اور محمدعلی یکم اللہ کے رسول ہیں تو اللہ ضرور اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔انہوں نے کہا یار سول اللہ کیا میں لوگوں کو اس کے متعلق خبر نہ دوں ؟ وہ خوش ہو جائیں گے۔یہ باتیں لوگوں کو جا کے بتاؤں ؟ آپ نے فرمایا تب تو وہ بھروسا کر لیں گے کہ اتنی بات کہہ لی ہے اور باقی نیکیاں نہیں کریں گے، اس لیے لوگوں کو نہیں بتانا۔حضرت معاذ نے مرتے وقت یہ بات بتلائی تھی کہ وہ گناہ سے بچ جائیں۔یعنی کہ آنحضرت صلی للی نیم کی بتائی ہوئی بات کو آگے نہیں بتایا۔971 یہ ان کا خیال تھا کہ شاید یہ بات مجھے مرتے ہوئے آگے صاحب علم لوگوں کو پہنچادینی چاہیے۔پھر آپ نے بتائی لیکن اپنی زندگی یا صحت کی حالت میں نہیں بتائی۔حضرت ولی اللہ شاہ صاحب نے بعض حدیثیں جو اس سے متعلقہ ہیں ان کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے شرح بخاری میں لکھا ہے کہ پھر اس کو بھی یہاں بیان کیا ہے کہ یہاں یہ بات جو کی گئی ہے کہ کسی علمی بات کو خاص لوگوں میں محدود کرنا۔کیونکہ یہ علمی بات ہے اس لیے اس کو خاص لوگوں میں محدود کرنا ہے کیونکہ عام لوگ اس کے صحیح مطلب تک نہ پہنچنے کی وجہ سے نقصان اٹھائیں گے۔صرف اتنا کہہ دینا اور باقی کوئی عمل نہ کرنا۔یہ نہ ہو