اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 420 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 420

اصحاب بدر جلد 5 420 ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے اس کی جزا کے طور پر جو وہ کیا کرتے تھے۔پھر فرمایا کیا میں تم کو ان سب کی بلند چوٹی اور اس کا ستون اور اس کی بلندی کا اوپر کا حصہ نہ بتاؤں۔فرمایاوہ جہاد ہے۔پھر فرمایا کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں جس پر اس سب کا مدار ہے یعنی بنیاد ہے۔اس کے گرد ساری چیزیں گھومتی ہیں۔میں نے عرض کیا ضرور یار سول اللہ ! اس پر آپ صلی ا ہم نے اپنی زبان کو پکڑا اور فرمایا کہ اس کو روک رکھو۔زبان کو پکڑ کے فرمایا اس کو روک رکھو۔میں نے عرض کیا اے نبی لله علی کم کیا ہمارا مواخذہ اس پر ہو گا جو ہم اس کے ذریعے کہتے ہیں۔آپ صلی میں ہم نے فرمایا تیر ابھلا ہواے مُعاذ ! لوگوں کو اوندھے منہ آگ میں نہیں گراتی مگر ان کی زبانوں کی کائی ہوئی فصلیں۔965 فتاوی دینے والے صحابہ یعنی جو تم زبان سے باتیں کرتے ہو، تیز باتیں کرتے ہو۔زبان سے دیے گئے زخم ایسے ہیں جو جذباتی تکلیفیں بھی پہنچاتے ہیں۔جو فتنہ پیدا کرتے ہیں اور بہت ساری برائیاں جن سے پید اہوتی ہیں تو یہ چیزیں، زبان سے کہی ہوئی باتیں جب زبان بیان کر رہی ہو ، برائیاں بیان کر رہی ہو یا برائی کا ذریعہ بن رہی ہو تو پھر آپ نے فرمایا کہ وہ ان کو اوندھے منہ آگ پر گرانے والی ہوتی ہیں۔اس لیے زبان کو سنبھال کے استعمال کرو اور اس سے اچھی اچھی باتیں ادا کی جائیں۔حضرت کعب بن مالک کہتے تھے کہ حضرت معاذ بن جبل رسول اللہ صلی علیکم کی حیات میں اور حضرت ابو بکر کے زمانے میں مدینے میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔966 محمد بن سهل بن أَبو خَيْثَمَہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم کے زمانے میں مهاجرین کے تین آدمی اور انصار میں سے تین آدمی فتویٰ دیا کرتے تھے وہ حضرت عمر، حضرت عثمان، رض حضرت علی، حضرت ابی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت زید بن ثابت تھے۔967 عبد الرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق کو جب کوئی ایسا امر پیش آتا جس میں وہ اہل الرائے اور اہل فقہ کا مشورہ لینا چاہتے تو آپنے مہاجرین و انصار کے آدمیوں کو بلاتے۔حضرت عمر، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت کو بلاتے۔یہ سارے حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔968 یعنی کہ افتاء کمیٹی کے یہ ممبر تھے یا ان کو آپ نے اختیار دیا تھا کہ فتوے دے دیا کرو اپنے اس علم کی بنا پر جو انہوں نے آنحضرت صلی علی نام سے سیکھا تھا۔حضرت معاذ بن جبل حضرت ابو بکر کے دور میں شام چلے گئے اور وہاں بو دوباش اختیار کر لی۔جس وقت حضرت معاذ بن جبل "شام روانہ ہو گئے تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ ان کی روانگی نے مدینہ اور