اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 415

اصحاب بدر جلد 5 415 قرآن پڑھانے والے استادوں کی ایک جماعت الله سة یہ بخاری کی روایت ہے جو میں نے پہلے پڑھی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی بیان فرماتے ہیں۔حضرت کعب کے ذکر میں پہلے بھی کچھ وضاحت ہوئی تھی کہ رسول اللہ صلی علیم نے قرآن پڑھانے والے استادوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی تھی جو سارا قرآن رسول اللہ صلی علیم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔یہ چار چوٹی کے استاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ لی ایم سے قرآن پڑھیں اور لوگوں کو قرآن شریف پڑھائیں۔پھر ان کے ماتحت اور بہت سے صحابہ ایسے تھے جو لو گوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے۔ان چار بڑے استادوں کے نام یہ ہیں۔عبد اللہ بن مسعودؓ، سالم مولی ابی حذیفہ مُعَاذ بن جبل ، أبي بن كعب۔ان میں سے پہلے دو مہاجر ہیں اور دوسرے دو انصاری۔کاموں کے لحاظ سے عبد اللہ بن مسعود ایک مزدور تھے ، سالم ایک آزاد شدہ غلام تھے ، مُعاذ بن جبل اور ابی بن کعب مدینے کے رؤساء میں سے تھے۔گویا ہر گروہ میں سے رسول اللہ صلی الیم نے تمام گروہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قاری مقرر کر دیے تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی ا یکم فرمایا کرتے تھے کہ خُذُوا الْقُرآن مِنْ أَرْبَعَةٍ (مِنْ) عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ وَ سَالِمٍ وَمُعَاذِينَ جَبَلٍ وَ أَبي بن كَعْبٍ۔جن لوگوں نے قرآن پڑھنا سة ہو وہ ان چار سے قرآن پڑھیں۔عبد اللہ بن مسعودؓ ، سالم ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب سے۔یہ چار تو وہ تھے جنہوں نے سارا قرآن رسول اللہ صلی علیم سے سیکھایا آپ کو سنا کر اس کی تصحیح کرالی لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے صحابہ رسول اللہ صلی علیہ کم سے براہ راست بھی کچھ نہ کچھ قرآن سیکھتے رہتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ایک لفظ کو اور طرح پڑھا تو حضرت عمر نے ان کو روکا اور کہا کہ اس طرح نہیں، اس طرح پڑھنا چاہیے۔اس پر عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا نہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ تم نے اسی طرح سکھایا ہے۔حضرت عمر ان کو پکڑ کر رسول اللہ صلی علی ایم کے پاس لے گئے اور رسول اللہ صلی علیم سے کہا کہ یہ قرآن غلط پڑھتے ہیں۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا عبد اللہ بن مسعودؓ پڑھ کے سناؤ۔جب انہوں نے پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے۔حضرت عمرؓ نے کہایا رسول اللہ ! مجھے تو آپ نے یہ لفظ اور رنگ میں سکھایا ہے آپ نے فرمایا وہ بھی ٹھیک ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چار صحابہ رسول اللہ صلی العلیم سے قرآن نہیں پڑھتے تھے بلکہ دوسرے لوگ بھی پڑھتے تھے چنانچہ حضرت عمر کا یہ سوال کہ مجھے آپ نے اس طرح پڑھایا ہے بتاتا ہے کہ حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی علیہ کم سے پڑھتے تھے۔954 الله اور ان میں سب سے زیادہ حلال و حرام کو جاننے والے مُعاذ بن جبل نہیں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابو بکر ہیں۔(میری امت میں سے میری امت پر سب سے