اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 391
اصحاب بدر جلد 5 391 اور الفاظ سنے یعنی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ کے سوا۔اس کے بعد وہ اپنے اونٹ کو آگے لایا اور میرے قریب اسے بٹھا دیا اور اس نے اونٹ کے دونوں گھٹنوں پر اپنا پاؤں رکھ دیا تا کہ وہ اچانک نہ اٹھ سکے۔چنانچہ میں اونٹ کے اوپر سوار ہو گئی۔896 وہاں بخاری میں یہ تھا کہ ہاتھ پہ پاؤں رکھ کے چڑھیں یہاں یہ ہے کہ انہوں نے اونٹ کے آگے گھٹنوں پر پاؤں بھی رکھ دیا تا کہ اونٹ ایک دم نہ اٹھ جائے۔جیسا کہ حضرت عائشہ نے بیان فرمایا ہے کہ میرے بارے میں خدا تعالیٰ کی وحی کی میرے لئے بڑی اہمیت تھی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میرے لئے تو اس وحی کی بڑی اہمیت تھی کیونکہ مجھے اس کی توقع نہیں تھی۔بہر حال یہ ایک اہم واقعہ تھا اور آنحضرت صلی علیہ نام کے اہل پر ایک بہت بڑا الزام لگایا گیا تھا۔حضرت عائشہ کا ایک خاص مقام تھا اور یہ مقام اس وجہ سے بھی تھا کہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ وحی بھی مجھے سب سے زیادہ عائشہ کے حجرے میں ہی ہوتی ہے۔897 ایسے الزام لگانے والوں کے بارہ میں مومن کا رد عمل کیا ہونا چاہیے۔اور سورہ نور میں ان الزام لگانے والوں کے بارے میں مومنوں کا جو رد عمل ہونا چاہئے اس کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کیا ہونا چاہئے۔اس بارے میں مکمل دس گیارہ آیتیں ہیں۔بہر حال حضرت عائشہ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اس واقعہ کے علاوہ جو حدیث کے حوالے سے میں بیان کر چکا ہوں حضرت مصلح موعودؓ نے جو زائد باتیں بیان فرمائی ہیں وہ بیان کرتا ہوں۔اول پہلے تو آیت پڑھ دوں۔آیت یہ ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا تَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِ امْرِ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كَبُرَة مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمُ (انور (12) یعنی یقینا وہ لوگ جو جھوٹ گھڑ لائے انہی میں سے ایک گروہ ہے۔اس معاملہ کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ان میں سے ہر شخص کے لئے ہے جو اس شَرَاءُ b نے گناہ کما یا جبکہ ان میں سے وہ اس کے بیشتر کے ذمہ دار ہیں اس کے لئے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔اس کے آگے پھر مزید آیتیں بھی ہیں۔بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔بہر حال اس آیت کی تفسیر میں جو سارا واقعہ بیان کیا ہے اور پھر آپ نے یہ لکھا کہ جب مدینہ پہنچے تو عبد اللہ بن اُبی بن سلول اور اس کے ساتھیوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت عائشہ نعوذ باللہ جان بوجھ کر پیچھے رہی تھیں اور ان کو صفوان سے تعلق تھا، جو بعد میں اونٹ لے کے آئے تھے۔لکھتے ہیں کہ یہ شور اتنا بڑھا کہ بعض صحابہ بھی نادانی سے ان کے ساتھ مل گئے جن میں سے ایک حسان بن ثابت ہیں اور دوسرے مِسطح بن اثاثہ۔اسی طرح ایک صحابیہ حمنہ بنت جحش بھی تھیں جو رسول اللہ صلی علیم کی سالی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو چونکہ اس حادثے سے صدمہ سخت ہوا تھا اور وہ چھوٹی عمر میں ایک ایسے جنگل میں تن تنہارہ گئی تھیں جہاں ہو کا عالم تھا اور مدینہ پہنچ کر اس صدمہ سے بیمار ہو گئیں۔تنہائی کا جو ایک خوف تھا، ایک ڈر تھا حضرت مصلح ط