اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 381
اصحاب بدر جلد 5 381 سے پناہ کی کوئی جگہ نہیں مگر اسی کی طرف پھر وہ ان پر قبولیت کی طرف مائل ہوتے ہوئے جھک گیا تا کہ وہ توبہ کر سکیں۔یقینا اللہ ہی بار بار توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔879 جیسا کہ پہلے یہ ذکر ہو چکا ہے کہ یہ تینوں پیچھے رہ جانے والے صحابہ حضرت کعب بن مالک، حضرت مراره بن ربیع اور حضرت هلال بن امیہ تھے اور یہ تینوں انصار سے تھے۔9 اس حوالے سے حضرت مدارہ شما علیحدہ کوئی بیان نہیں ہے حضرت کعب بن مالک کا ہی تفصیلی بیان ہے جو حضرت هلال بن امیہ کے تعلق میں گذشتہ خطبے میں بیان کر چکا ہوں 880 اس لیے دوبارہ یہاں بیان کی ضرورت نہیں ہے۔881 278 حضرت مرثد بن ابي مرقد * باپ بیٹا جنگ بدر میں شامل حضرت مرشد بن ابی مرشد۔ان کی وفات صفر تین ہجری میں مقام رجیع میں ہوئی۔آپ بدری صحابی تھے۔آپ حضرت حمزہ بن عبد المطلب کے حلیف تھے۔آپ اپنے والد کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے ابتدائی قبول اسلام اور ہجرت مدینہ آپ اسلام کے شروع میں مشرف باسلام ہوئے اور بدر سے قبل ہجرت کر کے مدینہ آگئے۔آنحضرت صلی ا ولم نے ان کی مواخات حضرت اوس بن صامت سے فرما دی۔بدر کے روز یہ گھوڑے پر حاضر ہوئے جس کا نام سبل تھا۔ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ حضرت 882 مرند اس فوجی دستہ کے سالار تھے جسے آنحضرت صلی الہ وسلم نے رجیع کی طرف روانہ فرمایا تھا۔یہ واقعہ ماہ صفر تین ہجری میں پیش آیا اور بعض کا خیال ہے کہ اس دستہ کی کمان حضرت عاصم بن ثابت کے پاس تھی۔32 ان کی شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ بنو عَضَل اور قارہ نے اسلام لانے کا دکھاوا کر کے آنحضرت صلی الزام سے مذہبی تعلیم کے لئے چند معلم بھجوانے کی درخواست کی جس پر آپ صلی ا ہم نے (اس کے بارے میں روایتوں میں اختلاف ہے) حضرت مرتد یا حضرت عاصم کی زیر امارت ایک جماعت بھیجی۔یہ لوگ ابھی مقام رجیع پر پہنچے تھے کہ بنو هلیل ننگی تلواریں لے کر آگئے اور کہا کہ ہمارا مقصد