اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 380
380 اصحاب بدر جلد 5 تمام غزوات میں شرکت حضرت مدبلج غزوہ بدر میں اپنے دو بھائیوں حضرت نقف بن عمر و “ اور حضرت مالك بن عمرو کے ہمراہ شامل ہوئے تھے۔حضرت منذ نلج بن عمر ور سول اللہ صلی علی ایم کے ہمراہ بدر، احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل ہوئے۔876 حضرت مدبلج بن عمرو کی وفات پچاس ہجری میں حضرت امیر معاویہ کے دورِ حکومت میں ہوئی رض 277 877 نام و نسب حضرت مرارہ بن ربیع انصاری حضرت مرارہ کے والد کا نام ربیع بن عدی تھا۔ان کے والد کا نام ربعی اور ربیعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔حضرت مرارہ بن ربیع عمری کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو عمر و بن عوف سے تھا جبکہ ایک روایت کے مطابق ان کا تعلق بنو عمرو بن عوف کے اتحادی قبیلہ قُضَاعَہ سے تھا۔قُضَاعَه عرب کا ایک مشہور قبیلہ ہے جو مدینے سے دس منزل پر وادی القریٰ سے آگے واقع ہے اور مدائن صالح 878 کے مغرب میں آباد ہے۔حضرت مداره و غزوہ بدر میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔امام بخاری اور صحابہ کے مشتمل کتب میں ان کے غزوہ بدر میں شامل ہونے کا تذکرہ ملتا ہے جبکہ ابن ہشام نے بدری حالات پر صحابہ کی فہرست میں ان کا نام درج نہیں کیا۔غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونے والے یہ ان تین انصار صحابہ میں سے تھے جو غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو سکے تھے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی یہ آیت بھی نازل فرمائی تھی کہ : وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِيْنَ خُلِفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحْبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَا مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (التوبه 118) اور ان تینوں پر بھی اللہ توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا جو پیچھے چھوڑ دیے گئے یہاں تک کہ جب زمین ان پر باوجود فراخی کے تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں تنگی محسوس کرنے لگیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ