اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 375
اصحاب بدر جلد 5 375 نے جو اس قوم کے سرداروں میں سے تھا اپنی قوم کو ملامت کی اور کہا کہ تم نے غداری کی ہے کہ معاہدہ توڑا ہے اب یا مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ پر راضی ہو جاؤ۔یہود نے کہا نہ مسلمان ہوں گے نہ جزیہ دیں گے۔ان میں سے اکثریت یہی تھی " کہ اس سے قتل ہونا اچھا ہے۔پھر اس شخص نے ان سے کہا میں تم سے بری ہو تا ہوں۔اور یہ کہہ کر وہ قلعہ سے نکل کر باہر چل دیا۔جب وہ قلعہ سے باہر نکل رہا تھا تو مسلمانوں کے ایک دستہ نے جس کے سردار محمد بن مسلمہ تھے اسے دیکھ لیا اور اسے پوچھا کہ وہ کون ہے۔اس نے بتایا کہ میں فلاں ہوں۔اس پر محمد بن مسلمہ نے فرمایا: اللهُمَّ لَا تَحْرِ مُنِي اِقَالَةَ عَكْرَاتِ الْكِرَامِ یعنی آپ سلامتی سے چلے جائیں اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی الہی! مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔یعنی یہ شخص کیونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اسے معاف کر دیں۔اس لیے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا ہے۔خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشتار ہے۔جب رسول اللہ صلی علی یم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے محمد بن مسلمہ کو سرزنش نہیں کی " کچھ نہیں پوچھا کہ کیوں اس یہودی کو چھوڑ دیا بلکہ اس کے فعل کو سراہا" یا 869 تعریف کی۔پس مسلمانوں نے آنحضرت میا علیم کی تعلیم اور تربیت کے مطابق ہمیشہ انصاف کا سلوک کیا ہے۔ابو رافع کی خون آشام کارروائیاں اور اس کا قتل اہل خیبر کی جب شرارت ہوئی تو پھر اس کی وجہ سے ابورافع یہودی کا قتل ہوا اس کا واقعہ اس طرح ہے۔اور قتل کرنے کے لیے جو صحابہ کی جماعت بھیجی گئی تھی اس میں بھی حضرت محمد بن مسلمہ شامل تھے جنہوں نے ابو رافع یہودی کو قتل کیا تھا۔قتل تو ایک شخص نے کیا تھا لیکن بہر حال وہ جماعت جو وہاں گئی تھی ان میں یہ شامل تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس واقعہ کی تفصیل تواریخ سے لے کے اس طرح بیان کی ہے کہ : جن یہودی رؤسا کی مفسدانہ انگیخت اور اشتعال انگیزی سے 5 ہجری کے آخر میں مسلمانوں کے خلاف جنگ احزاب کا خطرناک فتنہ برپا ہوا تھا اس میں سے حیی بن اخطب تو بنو قریظہ کے ساتھ اپنے کیفر کردار کو پہنچ چکا تھا لیکن سلام بن ابی الحقیق جس کی کنیت ابو رافع تھی ابھی تک خیبر کے علاقہ میں اسی طرح آزادانہ اور اپنی فتنہ انگیزی میں مصروف تھا بلکہ احزاب کی ذلت بھری ناکامی اور پھر بنو قریظہ کے ہولناک انجام نے اس کی عداوت کو اور بھی زیادہ کر دیا تھا اور چونکہ قبائل غطفان کا مسکن خیبر کے قریب تھا اور خیبر کے یہودی اور نجد کے قبائل آپس میں گویا ہمسائے تھے اس لیے اب ابورافع نے جو ایک بہت بڑا تاجر اور امیر کبیر انسان تھا دستور بنالیا تھا کہ نجد کے وحشی اور جنگجو قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہتا تھا اور رسول اللہ صلی علیکم کی عداوت میں وہ کعب بن اشرف کا پورا پورا مثیل تھا۔چنانچہ اس زمانہ میں جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس نے غطفانیوں کو آنحضرت صلی ا ظلم کے خلاف حملہ آور ہونے کے لیے