اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 373
اصحاب بدر جلد 5 373 چادر اوڑھیں گے۔وہ تھوڑے پر قناعت کریں گے۔ان کی تلوار ان کے کندھے پر ہو گی۔وہ حکمت کے ساتھ گفتگو کریں گے گویاوہ تمہارے قرابت دار ہیں۔اللہ کی قسم !تمہاری اس بستی میں اب چھینا جھپٹی ہو گی اور قتل ہو گا اور مثلہ ہو گا۔یہ سن کر یہود نے کہا کہ ہم اسی طرح کہا کرتے تھے۔یہ ساری باتیں ان کو یاد کرائیں کہ تم اس طرح کہا کرتے تھے لیکن یہ وہ نبی نہیں ہے یعنی انحضرت صلی العلم وہ نبی نہیں ہیں۔حضرت محمد مسلمہ نے کہا کہ میں اپنے پیغام سے اب فارغ ہو چکا جو میں تمہیں یاد کرانا چاہتا تھا۔پھر آپ نے اگلی بات شروع کی کہ مجھے رسول اللہ صلی علیم نے بھیجا ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ تم نے وہ معاہدہ توڑ دیا ہے جسے میں نے تمہارے لیے قائم کیا تھا کیونکہ تم نے مجھے دھوکا دینے کی کوشش کی ہے۔حضرت محمد بن مسلمہ نے یہود کو ان کے اس ارادے کی خبر دی جو انہوں نے آپ صلی لنی کیم کے بارے میں کیا تھا اور یہ کہ عمرو بن جحاش کیسے چھت پر چڑھا تا کہ وہ آپ پر پتھر گرا دے۔اس پر انہوں نے چپ سادھ لی اور وہ ایک حرف تک نہ بول سکے۔پھر حضرت محمد بن مسلمہ نے انہیں کہا کہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا ہے تم میرے اس شہر سے نکل جاؤ۔میں تمہیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں اس کے بعد جو ادھر نظر آیا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔یہود نے کہا اے ابن مسلمہ !ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ پیغام اوس قبیلے کا کوئی شخص لے کر آئے گا۔حضرت محمد بن مسلمہ نے فرمایا اب دل تبدیل ہو چکے ہیں۔چند دن یہود تیاری کرتے رہے۔ان کی سواریاں ذوجد ر مقام پر تھیں وہ لائی گئیں۔ذو جدر قبا کی جانب مدینے سے چھ میل کے فاصلے پر ایک چراگاہ ہے وہاں ان کے جانور چرا کرتے تھے۔وہی سواریاں تھیں وہ لائی گئیں وہاں سے۔انہوں نے بنوا شجمع قبیلے سے کرائے پر اونٹ لیے اور روانگی کی تیاری مکمل کی۔یہ تاریخ کی کتاب کا حوالہ ہے۔168 یہود کا بے باکانہ اور باغیانہ رویہ یہودیوں کے رویے کی کہ ان کا رویہ کس طرح ہوتا تھا ؟ ایک جگہ اس کا بیان کرتے ہوئے جس میں بنو قریظہ کی غداری کا واقعہ ہے گو یہ پہلے حضرت عمار بن یاسر کے ضمن میں بیان ہو چکا ہے لیکن تاریخی لحاظ سے یہاں بھی بیان کر دینا ضروری ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی لکھتے ہیں کہ : " بنو قریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔ان کی غداری ایسی نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔رسول کریم صلی الم نے " غزوہ خندق سے واپس آتے ہی اپنے صحابہ سے فرمایا: گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنو قریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ اور پھر آپ نے حضرت علی کو بنو قریظہ کے پاس بھیجوایا کہ وہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے معاہدہ کے خلاف یہ غداری کیوں کی ؟ بجائے اس کے کہ بنو قریظہ شر مندہ ہوتے یا معافی مانگتے یا کوئی معذرت کرتے انہوں نے حضرت علی اور ان کے ساتھیوں کو برابھلا کہنا شروع