اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 368
اصحاب بدر جلد 5 368 ہشام نے تو اسے بغیر کسی قسم کی سند کے لکھا ہے، کوئی سند ہے ہی نہیں اور ابو داؤد نے جو سند دی ہے وہ کمزور اور ناقص ہے۔اس سند میں ابن اسحاق یہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ زید بن ثابت کے ایک آزاد کردہ غلام سے سنا تھا اور اس نامعلوم الاسم غلام نے ، پتا ہی نہیں یہ کون ہے اس کا نام Known بھی نہیں ہے، محیصہ کی ایک نامعلوم الاسم لڑکی سے سناتھا۔وہ بھی ایک لڑکی کی روایت دے رہا ہے جس کا نام پتا ہی نہیں۔روایتوں میں کہیں نہیں پتا لگتا کون ہے اور اس لڑکی نے اپنے باپ سے سنا تھا۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کی روایت جس کے دور اوی بالکل نامعلوم الاسم ہوں، جن کے ناموں کا بھی پتا ہی نہ ہو اور مجہول الحال ہوں ہر گز قابل قبول نہیں ہو سکتی اور درایت کے لحاظ سے بھی غور کیا جاوے تو یہ قصہ درست ثابت نہیں ہوتا کیونکہ آنحضرت صلی علی کم کا عام طریق عمل اس بات کو قطعی طور پر جھٹلاتا ہے کہ آپ نے اس قسم کا عام حکم دیا ہو۔علاوہ ازیں اگر کوئی عام حکم ہو تا تو یقینا اس کے نتیجے میں کئی قتل واقع ہو جاتے مگر روایت میں صرف ایک قتل کا ذکر ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی عام حکم نہیں تھا اور پھر جب صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ دوسرے دن ہی یہود کے ساتھ نیا معاہدہ ہو گیا تھا تو اس صورت میں یہ ہر گز قبول نہیں کیا جاسکتا کہ اس معاہدے کے ہوتے ہوئے اس قسم کا حکم دیا گیا ہو اور اگر س قسم کا کوئی واقعہ ہوتا تو یہودی لوگ اس کے متعلق ضرور واویلا کرتے، شور مچاتے مگر کسی تاریخی روایت سے ظاہر نہیں ہوتا کہ یہود کی طرف سے کبھی کوئی اس قسم کی شکایت کی گئی ہو۔پس روایت اور درایت دونوں طرح سے یہ قصہ غلط ثابت ہوتا ہے اور اگر اس میں کچھ حقیقت سمجھی جاسکتی ہے تو صرف اس قدر کہ جب کعب بن اشرف کے قتل کے بعد مدینے میں ایک شور پیدا ہوا اور یہودی لوگ جوش میں آگئے تو اس وقت آنحضرت صلی لیلی کلم نے یہودیوں کی طرف سے خطرہ محسوس کر کے صحابہ سے یہ فرمایا ہو گا، یہ امکان ہے۔کوئی قطعی ثبوت اس کا بھی نہیں ہے کہ جس یہودی کی طرف سے تمہیں خطرہ ہو اور تم پر حملہ کرے تم اسے دفاع میں قتل کر سکتے ہو۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالت صرف چند گھنٹے رہی۔اگر یہ امکان لیا بھی جائے تو یہ امکان صرف چند گھنٹے تھا کیونکہ اس کے بعد تو معاہدہ ہو گیا تھا۔کیونکہ دوسرے دن ہی یہود کے ساتھ از سر نو معاہدہ ہو کر امن وامان کی صورت پیدا ہو گئی تھی۔پھر آپے لکھتے ہیں کہ کعب بن اشرف کے قتل کی تاریخ کے متعلق کسی قدر اختلاف ہے۔ابن سعد نے اسے ربیع الاوّل تین ہجری میں بیان کیا ہے لیکن ابن ہشام نے اسے سر یہ زید بن حارثہ کے بعد رکھا ہے جو مسلم طور پر جمادی الآخرہ میں واقع ہوا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ میں نے اس جگہ ابن ہشام کی 866 ترتیب ملحوظ ر کھی ہے۔16 ایک حدیث کی غلط تشریح کعب بن اشرف کے قتل کے ضمن میں یہ بیان ہوا تھا کہ حضرت محمد بن مسلمہ نے اسے بہانے