اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 364

اصحاب بدر جلد 5 گیا وہ جائز تھا یا نہیں ؟ 364 امر اول کے متعلق تو یہ یادر کھنا چاہیے کہ کعب بن اشرف آنحضرت صلی علی نام کے ساتھ باقاعدہ امن و امان کا معاہدہ کر چکا تھا اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنا تو در کنار رہا اس نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ ہر بیرونی دشمن کے خلاف مسلمانوں کی امداد کرے گا اور مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گا۔اس نے اس معاہدے کی رو سے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ جو رنگ مدینے میں جمہوری سلطنت کا قائم کیا گیا ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ کا صدر ہوں گے اور ہر قسم کے تنازعات وغیرہ میں آپ کا فیصلہ سب کے لیے واجب القبول ہو گا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسی معاہدے کے ماتحت یہودی لوگ اپنے مقدمات وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علم کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور آپ ان میں احکام جاری فرماتے تھے۔اگر ان حالات کے ہوتے ہوئے کعب نے تمام عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں سے بلکہ حق یہ ہے کہ حکومت وقت سے غداری کی اور مدینے میں فتنہ وفساد کا بیج بویا اور ملک میں جنگ کی آگ مشتعل کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب کو خطرناک طور پر ابھارا اور آنحضرت صلی ایم کے قتل کے منصوبے کیسے تو ان حالات میں کعب کا جرم بلکہ بہت سے جرموں کا مجموعہ ایسانہ تھا کہ اس کے خلاف کوئی تعزیری قدم نہ اٹھایا جاتا؟ کیا یہ قتل سے کم کوئی اور سزا تھی جو یہود کی اس فتنہ پردازی کے سلسلے کو روک سکتی ؟ کیا آج کل مہذب کہلانے والے ممالک میں بغاوت اور عہد شکنی اور اشتعال جنگ اور سازش قتل کے جرموں میں مجرموں کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی؟ مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ اب جو سوال اٹھتا ہے وہ قتل کے طریق سے تعلق رکھتا ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے قتل کا طریق کیا تھا؟ جائز تھا کہ نہیں ؟ یعنی سوال یہ ہے کہ قتل کا طریق کیسا تھا ؟ اس سے تعلق رکھنے والا سوال ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ عرب میں اس وقت کوئی باقاعدہ سلطنت نہ تھی بلکہ ہر شخص اور ہر قبیلہ آزاد اور خود مختار تھا۔ایسی صورت میں وہ کون سی عدالت تھی جہاں کعب کے خلاف مقدمہ دائر کر کے با قاعدہ قتل کا حکم حاصل کیا جاتا؟ کیا یہود کے پاس اس کی شکایت کی جاتی جن کا وہ سر دار تھا اور جو خود مسلمانوں کے خلاف غداری کر چکے تھے اور آئے دن فتنے کھڑے کرتے رہتے تھے ؟ کیا مکے کے قریش کے سامنے مقدمہ پیش کیا جاتا جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے ؟ کیا قبائل سُلیم وغطفان سے دادرسی چاہی جاتی جو گذشتہ چند ماہ میں تین چار دفعہ مدینے پر چھاپہ مارنے کی تیاری کر چکے تھے ؟ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ پھر سوچو کہ مسلمانوں کے لیے سوائے اس کے وہ کون سا راستہ کھلا تھا کہ جب ایک شخص کی اشتعال انگیزی اور تحریک جنگ اور فتنہ پردازی اور سازش قتل کی وجہ سے اس کی زندگی کو اپنے لیے اور ملک کے امن کے لیے خطرناک پاتے تو خود حفاظتی کے خیال سے موقع پا کر اسے خود قتل کر دیتے کیونکہ یہ بہت بہتر ہے کہ ایک شریر اور مفسد آدمی قتل ہو جائے بجائے