اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 340
340 262 اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب و کنیت حضرت قیس بن السکن انصاری 812 811 حضرت قيس بن السکن اَنْصَارِی ان کی کنیت ابوزید تھی۔حضرت قیس کے والد کا نام سکن بن زَعُورَاء تھا۔آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عدی بن نجار سے تھا۔حضرت قیس اپنی کنیت ابو زید سے زیادہ مشہور تھے۔آپ غزوہ بدر اور غزوۂ احد اور غزوہ خندق اور باقی تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ شامل ہوئے۔آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے آنحضور صلی علی نیلم کے زمانے میں قرآن مجید جمع کیا۔حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ آنحضور صلی علم کے زمانے میں انصار میں سے چار اصحاب نے قرآن کریم جمع کیا اور وہ چار اصحاب زید بن ثابت ، معاذ بن جبل، أبي بن كعب اور ابو زید تھے یعنی قيس بن سکن اور ابوزید کے متعلق حضرت انس کہتے ہیں کہ یہ میرے چچا تھے۔8 ہجری میں آنحضور صلی علیم نے ابوزید انصاری اور حضرت عمر و بن عاص الشهيی کو جلندى کے دو بیٹوں عبید اور جیفر کے پاس ایک خط دے کر روانہ کیا جس میں ان کو اسلام کی دعوت دی تھی اور دونوں سے فرمایا کہ اگر وہ لوگ حق کی گواہی دیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں تو عمروان کے امیر ہوں گے اور ابوزید اُن کے امام الصلوۃ ہوں گے۔یعنی کہ ان کی دینی حالت آنحضرت صلی علیم کی نظر میں زیادہ اچھی ہو گی یا قرآن کریم کا علم زیادہ تھا۔فرمایا وہ امام الصلوۃ ہوں گے اور ان میں اسلام کی اشاعت کریں گے اور انہیں قرآن اور سنن کی تعلیم دیں گے۔یہ دونوں عمان گئے اور عبید اور جنفر سے سمندر کے کنارے معاز میں ملے۔ان کو آنحضور صلی للی کم کا خط دیا انہوں نے اسلام قبول کیا، دونوں نے اسلام قبول کر لیا پھر انہوں نے وہاں کے عربوں کو اسلام کی دعوت دی وہ بھی اسلام لے آئے۔اب یہ تبلیغ کے ذریعہ سے اسلام پھیل رہا ہے۔وہاں کوئی جنگ، قتل وغارت اور تلوار تو نہیں گئی تھی اور بہر حال ان عربوں نے بھی اسلام کو قبول کیا۔عمرو اور ابوزید عمان ہی میں رہے یہاں تک کہ آنحضور صلی للی کم کا انتقال ہو گیا۔بعض کے نزدیک ابوزید اس سے پہلے مدینہ آگئے تھے۔شہادت 814 813 حضرت قیس کی شہادت یوم جشر کے موقع پر ہوئی۔4 حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں دریائے فرات پر جو پل تیار کیا گیا تھا