اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 334
اصحاب بدر جلد 5 334 منٹ قبولیتِ دعا کا ہے۔یہاں تک کہ توے منٹ کے آخر تک انسان کسی منٹ کے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قبولیت دعا کا وقت ہے۔گویا وہ گھڑی جس میں ہر دعا قبول ہوتی ہے توے منٹ میں تلاش کرنی پڑے گی اور وہی شخص قبولیت دعا کا موقع تلاش کرنے میں کامیاب ہو سکے گا جو برابر توے منٹ تک دعا کرتار ہے اور توہے منٹ تک برابر دعا میں لگے رہنا اور توجہ کو قائم رکھنا یہ ہر ایک کا کام نہیں، بڑا مشکل کام ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ بعض لوگ تو پانچ منٹ بھی اپنی توجہ قائم نہیں رکھ سکتے۔کہتے ہیں کہ میں اس وقت مثلاً نماز کے لیے آیا ہوں۔انسان اِدھر اُدھر نظر مارتا ہی ہے۔میں نے خطبہ سے پہلے بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ سنتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور یک دم ان کی آنکھ ادھر ادھر جاپڑتی تھی۔سنتوں پر ڈیڑھ دو منٹ لگتے ہیں مگر اس تھوڑے سے وقت میں بھی وہ کبھی دائیں دیکھتے تھے، کبھی بائیں دیکھتے تھے، کبھی زمین کی طرف دیکھتے تھے، کبھی آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔جب ڈیڑھ دومنٹ تک توجہ کو قائم رکھنا مشکل ہے تو تو ے منٹ تک دعا کرتے رہنا، ذکر الہی میں لگے رہنا اور توجہ کو ایک ہی طرف قائم رکھنا کوئی آسان بات نہیں۔پس یہ گھڑی کا ذکر بھی ہے تو اس میں مسلسل توجہ کی بھی ضرورت ہے اور یہ بڑی محنت طلب چیز ہے اور اس کے لیے بڑا مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔یہ آسان چیز نہیں ہے۔یہ نہیں کہ ہم نے دعا کی تو اس منٹ میں قبول ہو گئی۔انسان کو نہیں پتا کون سامنٹ ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ اس عرصے میں انسان بغیر توجہ ہٹائے مسلسل دعا میں لگا رہے اور یہ لگا رہنا ضروری ہے اور جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے۔میں نے ذکر کیا کہ یہ آسان کام نہیں ہے۔جمعے کی برکات کو حاصل کرنے کے لیے بڑی محنت کی ضرورت ہے۔793 792 259 نام و نسب حضرت قدامہ بن مظعون 794 حضرت قدامہ بن مظعون۔حضرت قدامہ بن مظعون حضرت عثمان بن مظعون کے بھائی ہیں اور حضرت عمر کی بہن حضرت صفیہ آپ کے عقد میں تھیں۔حضرت قدامہ بن مظعون کی ایک سے زائد شادیاں تھیں۔ایک اہلیہ ہند بنت ولید تھیں جن سے عمر اور فاطمہ پیدا ہوئے۔ایک بیوی فاطمہ بنت ابو سفیان تھیں جن سے آپ کی بیٹی عائشہ پید اہوئیں۔اسی طرح اتم ولد کے بطن سے حفصہ اور حضرت صفیہ بن خطاب کے بطن سے حضرت رملہ پیدا ہو ئیں۔795