اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 332

اصحاب بدر جلد 5 332 پھر یہ ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابو سعید ! حضرت ابو ہریرہ نے ہمیں ایک ایسی گھڑی کے متعلق حدیث سنائی ہے جو کہ جمعے کے دن آتی ہے۔وہ سوال تو وہ پوچھنے گیا تھا لیکن پھر وہاں ان کو یہ دیکھتے ہوئے کہ سوٹیوں کو اکٹھے کر رہے ہیں، arrange کر رہے ہیں تو اس کا ضمنا ذکر آگیا اور اس کی تفصیل بیان ہو گئی۔اب دوبارہ وہ اپنے سوال کی طرف لوٹتے ہیں اور کہتے ہیں۔یہ ابو ہر برٹا سے یہ روایت ہے کہ جمعے کے دن ایسی گھڑی آتی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے، کیا آپ کو اس ساعت کا علم ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی علیم سے اس ساعت کے متعلق دریافت کیا تھا تو نبی کریم ملی الم نے فرمایا کہ مجھے پہلے تو وہ گھڑی بتائی گئی تھی لیکن پھر شب قدر کی طرح بھلادی گئی۔ابو سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں وہاں سے نکل کر حضرت عبد اللہ بن سلام کے پاس چلا گیا۔مسند احمد بن حنبل کی جو یہ روایت بیان ہوئی ہے اس میں جمعے کے روز جس گھڑی کا ذکر ہے اس گھڑی کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ان روایات سے تین مختلف اوقات کا یا باتوں کا پتا لگتا ہے۔پہلا تو یہ کہ یہ گھڑی جمعے کے دوران آتی ہے۔دوسر اجو مختلف روایتیں بیان ہوئی ہیں ان سے یہ کہ دن کے آخری 787 786 حصے میں آتی ہے۔اور تیسری یہ کہ نماز عصر کے بعد آتی ہے۔چنانچہ یہ روایات یہاں بیان کر دیتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے جمعے کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا اس میں ایک گھڑی ہے جو مسلمان بندہ اس گھڑی کو ایسی حالت میں پائے گا کہ وہ اس میں کھڑ انماز پڑھ رہا ہو گا تو وہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگے گاوہ ضرور اس کو دے گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ گھڑی بہت تھوڑی سی ہے۔وہ بہت تھوڑا وقت ہے۔پھر ایک صحیح مسلم کی روایت ہے ابو بردہ بن ابو موسی اشعری سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے مجھ سے کہا کیا تم نے اپنے والد سے جمعے کی گھڑی کی کیفیت کے بارے میں رسول اللہ صلی علیم سے حدیث بیان کرتے سنا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہاں میں نے سنا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی نیلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے کے سة درمیان ہوتی ہے۔788 پھر ایک اور روایت ہے۔حضرت عبد اللہ بن سلام نے بیان کیا کہ میں نے ایک مرتبہ جبکہ رسول اللہ صلی الله علم تشریف فرما تھے عرض کیا کہ ہم اللہ کی کتاب میں جمعے کے دن ایک ایسی گھڑی کا ذکر پاتے ہیں کہ مومن بندہ جو نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے کچھ مانگ رہا ہو وہ اس گھڑی کو نہیں پاتا مگر اللہ اس کی وہ حاجت پوری کر دیتا ہے۔حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا " یا گھڑی کا کچھ حصہ یا ایک تھوڑا سا وقت ہے۔" میں نے عرض کیا کہ جی یا گھڑی کا کچھ حصہ۔" پھر میں نے عرض کیا کہ وہ کون سی گھڑی ہے ؟ تو آپ صلی علیم نے فرمایا کہ وہ دن کی آخری گھڑیوں میں سے ہے۔یعنی دن ڈھلنے کے قریب ہے۔میں نے کہا وہ نماز کی گھڑی نہیں ہے ؟ آپ نے