اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 331
331 اصحاب بدر جلد 5 تعالیٰ نے ہمارے لیے برکت رکھی ہے۔رسول اللہ صلی علیکم انہیں پسند فرماتے تھے اور انہیں ہاتھ میں پکڑ چلا کرتے تھے۔ہم انہیں سیدھا کر کے نبی کریم صلی علیم کے پاس لاتے تھے۔کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی عوام نے مسجد میں قبلہ رخ تھوک لگا ہوا دیکھا۔کسی نے تھوک پھینکا تو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ان میں سے ہی ایک چھڑی تھی۔آپ نے اس چھڑی سے اسے صاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو سامنے مت تھو کے کیونکہ سامنے اس کا رب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو رہے ہو تو سامنے کی طرف نہ تھو کا کرو اور اس وقت میرا خیال ہے ابھی پوری طرح احکامات بھی نہیں تھے۔اس لیے اس روایت میں یہ ہے کہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھو کو اور یہ روایت بخاری میں بھی ہے۔اس وقت بیچی جگہ ہوتی تھی اور بعد میں مٹی ڈال کر یا مٹی سے صاف کر دیتے ہوں گے اس لیے نیچے تھوکنے کا کہا لیکن اصل جو ایک اور روایت ہے اور بعد میں جب صحیح تربیت بھی ہو گئی اور احکامات بھی آگئے تو اس میں یہی ہے کہ تمہارا جو چادر کا پتو ہے اس میں صاف کیا کرو۔ناک ہے یا تھوک ہے اُسے صاف کرنے کی اگر کوئی حاجت پڑ جائے تو کیونکہ اب تو رومال ہیں، ٹشو ہیں اور مسجدوں میں ویسے بھی قالین ہوتے ہیں اس لیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیچے تھوکنا جائز ہے بلکہ ان حالات میں ایک وقتی اجازت تھی اور اس کے بعد پھر آپ نے با قاعدہ وضاحت سے بیان فرمایا کہ اگر ایساناک صاف کرنے کی یا تھوکنے کی کوئی حاجت پڑ جائے تو چادر کے ایک کونے سے لو اور اسے لپیٹ دو اور باہر جاکے صاف کر دو۔روشنی دینے والی چھڑی۔۔۔تو راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر اسی رات خوب زور دار بارش ہوئی اور جب نماز عشاء کے لیے نبی کریم صلی یکم وہاں تشریف لائے تو ایک دم بجلی چمکی تو آپ کی نظر حضرت قتادہ بن نعمان پر پڑی۔آپ نے فرمایا اے قتادہ ! رات کے اس وقت تم یہ کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی علیکم مجھے معلوم تھا کہ آج نماز کے لیے بہت تھوڑے لوگ آئیں گے۔بارش بہت ہو رہی ہے، بجلی چمک رہی ہے تو میں نے سوچا کہ میں نماز میں شریک ہو جاؤں اور میں پہلے آگیا۔نبی کریم صلی العلیم نے فرمایا جب تم نماز پڑھ چکو تو رک جانا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس سے گزرنے لگوں۔چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم ملی الم نے حضرت قتادہ کو ایک چھڑی دی اور فرمایا یہ لے لو۔یہ تمہارے دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے روشنی دے گی پھر جب تم اپنے گھر میں داخل ہو اور وہاں کسی کونے میں کسی انسان کا سایہ نظر آئے تو اس کے بولنے سے پہلے اسے اس چھڑی سے مار دینا کہ وہ شیطان ہو گا۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو یہ ابو سعید کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے ہم ان چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں۔یہ چھڑیاں ہمیں آنحضرت صلی اہل علم نے دی ہوئی ہیں اور ہم خاص طور پر بنا کے دیا کرتے تھے اور آپ استعمال کیا کرتے تھے۔پھر واپس بھی کر دیتے تھے یا تحفے کے طور پر دے دیتے تھے اور ان چھڑیوں میں یہ بہت ساری برکات ہیں اس لیے میں ان کو جوڑ رہا ہوں۔