اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 300
اصحاب بدر جلد 5 رسول اللہ ایم کی ایک دعا 300 ابو مجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار بن یاسر نے مختصر سی نماز پڑھی۔ان سے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو حضرت عمار نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی الی ایم کی نماز میں سر مو بھی فرق نہیں کیا 698 اس روایت کی ایک تفصیل اس طرح بھی ملتی ہے۔ابو مجلز کے حوالے سے ہی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمار بن یاسر نے ہمیں بہت مختصر نماز پڑھائی۔لوگوں کو اس پر تعجب ہوا۔حضرت عمار نے کہا کہ کیا میں نے رکوع اور سجود مکمل نہیں کئے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔حضرت عمار نے کہا کہ میں نے اس میں ایک دعا کی ہے جو رسول اللہ صلی لی کم مانگا کرتے تھے اور وہ دعا یہ ہے کہ اللهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِى أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا وَالْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَ الْغِلَى وَلَنَّةُ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَمِن فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ۔اللَّهُمَّ زَيَّنَّا بِزِينَةِ الْإِيْمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيين کہ اے اللہ ! غیب کا علم تجھے ہی ہے اور تمام مخلوق پر تیری قدرت ہی حاوی ہے۔تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میری زندگی میرے لئے بہتر ہے اور مجھے اس وقت وفات دے جب موت میرے لئے بہتر ہو۔اے اللہ ! میں غیب اور حاضر میں تجھ سے تیری خشیت کا طلبگار ہوں اور غضب اور رضا کی حالت میں کلمہ حق کہنے کی طاقت مانگتا ہوں اور تنگدستی اور فراخی میں میانہ روی اختیار کرنے اور تیرے چہرے پر پڑنے والی لذت والی نظر اور تیری لقا کا شوق تجھ سے مانگتا ہوں اور میں کسی تکلیف دہ امر اور گمراہ کر دینے والے فتنہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔اے اللہ ! ہمیں ایمان کی خوبصورتی کے ساتھ مزین کر دے اور ہمیں ہدایت پانے والے لوگوں کے لئے رہنما بنادے۔699 یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر ہر جمعہ کو منبر پر سورۃ یسین کی تلاوت کرتے 700 701 حارث بن سوید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عمر کے پاس حضرت عمار کی چغلی کھائی، شکایت کی۔حضرت عمار تک یہ بات پہنچی تو آپ نے اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور کہا اے اللہ ! اگر اس شخص نے مجھ پر جھوٹا افترا کیا ہے تو اس کو دنیا میں کشائش عطا کر اور اس کی آخرت لپیٹ دے۔ابو نوفل بن ابی عقرب کہتے ہیں کہ حضرت عمار بن یا سر سب سے زیادہ سکوت کرنے والے اور سب سے کم کلام کرنے والے تھے۔وہ کہا کرتے تھے کہ میں فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔میں فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔702 خَيْثَمه بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے کسی نیک آدمی کی