اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 291 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 291

اصحاب بدر جلد 5 291 ایک باغ میں تھے جسے وہ پانی دے رہے تھے۔جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ آئے اور گوٹھ مار کر بیٹھ گئے۔(چوکڑی مار کے بیٹھ گئے ) اور انہوں نے کہا ہم مسجد نبوی بنتے وقت اینٹیں ایک ایک کر کے لاتے تھے اور عمار بن یاسر دو دو اینٹیں اٹھا کر لاتے تھے۔نبی صلی علی کرم ان کے پاس سے گزرے اور آپ صلی اہلیہ کلم نے ان کے سر سے یعنی عمار کے سر سے غبار پونچھا اور فرمایا کہ افسوس ! باغی گروہ انہیں مار ڈالے گا۔عمار ان کو اللہ کی طرف بلا رہا ہو گا اور وہ اس کو آگ کی طرف بلا رہے ہوں گے۔663 الله سة حضرت عمار یہ دعا کیا کرتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ تعالی کی پناہ میں آتا ہوں۔664 عبد الله بن ابی ھکیل سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی الیکم نے اپنی مسجد بنائی تو ساری قوم اینٹ پتھر ڈھور ہی تھی اور نبی کریم صلی الی یوم اور حضرت عمار بھی ڈھو رہے تھے۔حضرت عمار یہ رجز پڑھ رہے تھے که نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ نَبْتَنِي الْمَسَاجِدَا - کہ ہم مسلمان ہیں جو مسجدیں بناتے ہیں۔رسول اللہ صلی علیہ کم بھی فرماتے تھے۔المَسَاجِدا یعنی ساتھ آپ بھی دہرایا کرتے تھے۔حضرت عمار اس سے قبل بیمار بھی تھے۔بعض لوگوں نے کہا کہ آج عمار ضرور مر جائیں گے کیونکہ کام بہت زیادہ کر رہے ہیں اور بیماری سے اٹھے ہیں کمزوری بھی بہت ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے یہ سن کر حضرت عمار کے ہاتھ سے اینٹیں گرا دیں۔665 اور آپ نے ان سے کہا تم آرام کرو۔تو انتہائی کمزوری کی حالت میں بھی خدمت سے یہ لوگ محروم نہیں رہنا چاہتے تھے۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔666 بیعت رضوان اور تمام غزوات میں شامل 667 حضرت عمار بن یاسر غزوہ بدر اور اُحد اور خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ رہے۔آپ بیعت رضوان میں بھی شریک تھے۔بیعت رضوان وہ بیعت ہے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوئی جب آنحضرت صلی ا ہم نے حضرت عثمان کو بطور سفیر کے بات کرنے کے لئے مکہ میں بھیجا تو اس وقت انہوں نے، کفار نے ، ان کو روک لیا اور مسلمانوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔اس پر آنحضرت صلی علیکم نے مسلمانوں کو ایک کیکر کے نیچے اکٹھا کیا، جمع کیا اور آپ نے فرمایا کہ آج میں تم سب سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں کہ کوئی شخص پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اپنی جان پر کھیل جائے گا لیکن یہاں سے نہیں ہٹے گا۔یہ جگہ نہیں چھوڑے گا۔اس اعلان پر کہا جاتا ہے کہ صحابہ بیعت یا عہد کے لئے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔جب بیعت ہو رہی تھی تو اس وقت آنحضرت صلی اللہ کریم نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا اور فرمایا یہ ہاتھ عثمان کا ہاتھ ہے کیونکہ اگر وہ ہوتے تو پیچھے نہ رہتے۔بہر حال بعد میں یہ خبر غلط نکلی۔حضرت عثمان آگئے۔لیکن مسلمانوں نے اس وقت یہ بیعت کی تھی، عہد کیا تھا کہ ہم اپنی جان پر کھیل جائیں گے لیکن اس کا بدلہ ضرور لیں گے کہ ایک سفیر کو، حضرت 668