اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 286

اصحاب بدر جلد 5 286 بیٹے عمر و بن اوبار کو جالیا۔وہ دونوں ایک اونٹ پر سوار تھے۔حضرت عکاشہ نے ان کو ایک نیزے میں ہی پر ودیا اور دونوں کو قتل کر دیا اور چھینی ہوئی بعض اونٹنیاں واپس لے آئے۔643 241 ایک ابتدائی اور جانثار صحابی حضرت عمار بن یاسر آنحضرت صلی علیکم کے ایک ابتدائی اور جانثار صحابی حضرت عمار بن یاسر تھے۔ان کے والد حضرت یاسر قحطانی نسل کے تھے۔یمن ان کا اصل وطن تھا۔اپنے دو بھائیوں حارث اور مالک کے ساتھ مکہ میں اپنے ایک بھائی کی تلاش میں آئے تھے۔حارث اور مالک یمن واپس چلے گئے مگر حضرت یا سر مکہ میں ہی رہائش پذیر ہو گئے اور ابو حذیفہ مخزومی سے حلیفانہ تعلق قائم کیا۔ابو حذیفہ نے اپنی لونڈی حضرت سمیہ سے ان کی شادی کروادی جن سے حضرت عمار پیدا ہوئے۔الله سة ابو حذیفہ کی وفات تک حضرت عمار اور حضرت یاسر ان کے ساتھ رہے۔جب اسلام آیا تو حضرت یاسر، حضرت سمیہ اور حضرت عمار اور ان کے بھائی حضرت عبد اللہ بن یاسر ایمان لے آئے۔حضرت عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں حضرت صہیب بن سنان سے دارِ ار قم کے دروازے پر ملا۔رسول اللہ صلی علیکم دارِ ارقم میں تھے۔میں نے صہیب سے پوچھا تم کس ارادے سے آئے ہو ؟ تو صہیب نے کہا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ محمد صلی علیہ نیم کے پاس جا کر ان کا کلام سنوں۔صہیب نے کہا میرا بھی یہی ارادہ ہے۔حضرت عمار کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے ہمیں اسلام کے بارے میں بتایا۔ہم نے اسلام قبول کر لیا۔ہم شام تک وہاں رہے۔پھر ہم چھپتے ہوئے دارار تم سے باہر آئے۔حضرت عمار اور حضرت صہیب نے جس وقت اسلام قبول کیا تھا اس وقت تھیں سے زائد افراد اسلام قبول کر چکے تھے۔644 صحیح بخاری کی ایک روایت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی للی کم کو اس وقت دیکھا تھا جب آپ کے ساتھ صرف پانچ غلام اور دو عور تیں اور حضرت ابو بکر صدیق تھے۔15- حضرت مصلح موعود ان صحابہ کے بارے میں ایک جگہ ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : مکہ کے چوٹی کے خاندانوں میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے کئی لوگوں کو خدمت کی توفیق دی اور غرباء 645