اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 270
اصحاب بدر جلد 5 270 پانی کا ایک چشمہ تھا وہ بہ رہا تھا اور یہ دکھایا گیا کہ یہ حضرت عثمان کا چشمہ ہے۔اس خواب کے دیکھنے کے بعد کہتی ہیں میں پھر رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آئی اور میں نے آپ کو یہ تایا کہ میں نے اس طرح خواب دیکھی ہے تو آپ نے فرمایا یہ اس کے عمل ہیں۔610 یہ جو چشمہ بہ رہا تھا تو اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں دکھا دیا کہ وہ جنت میں ہیں اور یہ س کے عمل ہیں جس کے چشمے اب وہاں یہ رہے ہیں۔پس یہ بھی آنحضرت صلی علیکم کی تربیت کا ایک طریق تھا کہ یوں ہی اتنے وثوق سے اللہ تعالیٰ کی بخشش کے بارے میں شہادت نہ دے دیا کرو۔ہاں جب خواب میں حضرت عثمان بن مظعون کے اعلیٰ اعمال ایک چشمے کی صورت میں حضرت اقد علاء کو دکھائے گئے تو آنحضرت صلی علیم نے اس کی تصدیق فرمائی۔ورنہ آنحضرت صلی للی کم کی دعائیں اور آپ کے متعلق جو آنحضرت صلی علی یم نے اپنے جذبات کا اظہار فرمایا وہ واضح کرتا ہے کہ آپ کو ان کے بارے میں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ وہ دعائیں سنے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے لیکن پھر بھی آپ نے کہا تم کسی کے بارے میں شہادت نہیں دے سکتے۔مسند احمد بن حنبل میں یہ مضمون کچھ اس طرح بیان ہے کہ خَارِجہ بن زید اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان بن مظعون کی جب وفات ہوئی تو خارجہ بن زید کی والدہ نے کہا ابو سائب ! تم پاک ہو۔تمہارے اچھے دن بہت اچھے تھے۔نبی صلی علیم نے اس کو سن لیا اور فرمایا یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا میں۔رسول اللہ صلی علی یکم نے فرمایا تمہیں کیا چیز بتاتی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عثمان یعنی ان کے عمل اور ان کی عبادتیں ایسی تھیں۔یہی چیزیں مجھے ظاہر کرتی ہیں کہ ضرور اللہ تعالیٰ نے ان سے مغفرت کا سلوک کر دیا، بخش دیا۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ہم نے عثمان بن مطعون میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔یقیناً عثمان بن مظعون ایسا شخص تھا کہ بھلائی کے سوا میں نے اس میں کچھ نہیں دیکھا لیکن ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ اور یہ بھی یادرکھو کہ میں اللہ کار سول ہوں لیکن بخدا میں بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔111 آنحضرت صلی میں کم سے بڑھ کر تو خدا تعالیٰ کا کوئی محبوب نہیں۔آپ حبیب خدا ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اور اس کے خوف اور خشیت کا یہ عالم ہے کہ اپنے بارے میں بھی فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں پتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔پس ہمارے لیے کس قدر خوف کا مقام ہے اور کس قدر ہمیں فکر ہونی چاہیے کہ نیک اعمال کریں۔خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ کریں اور اس کے باوجود اس بات پر فخر نہیں بلکہ عاجزی میں بڑھتے چلے جائیں اور اس سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کار حم اور اس کے فضل کی بھیک مانگتے رہیں کہ وہ اپنے فضل سے ہمیں بخش دے۔مسند احمد بن حنبل کی ایک اور روایت درج ہے کہ حضرت اقد علاء کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں عثمان بن مظعون بیمار ہو گئے۔ہم نے ان کی تیاداری کی یہاں تک کہ جب فوت ہو گئے تو ہم نے ان کو ان کے