اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 257

257 اصحاب بدر جلد 5 یکہ کے رئیسوں کا ایک رئیس تھا جو غیر مسلم تھا اس کی امان میں آگئے تھے۔تو عثمان کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! میری صبح شام ایک مشرک کی امان میں امن کے ساتھ گزر رہی ہے جبکہ میرے دوستوں اور گھر والوں کو اللہ کی راہ میں تکالیف اور اذیتیں پہنچ رہی ہیں۔یقیناً مجھ میں کوئی خرابی ہے۔انہوں نے اپنے آپ سے یہ کہا۔پس آپ ولید بن مغیرہ کے پاس گئے اور کہا کہ اے ابو عبد شمس ! ( یہ ولید بن مغیرہ کا لقب تھا) تمہارا ذمہ پورا ہو گیا۔میں تمہاری امان میں تھا۔اب میں چاہتا ہوں کہ اس امان سے نکل کر رسول اللہ صلی علیکم کے پاس جاؤں کیونکہ میرے لیے آپ صلی علیم اور آپ کے صحابہ میں اسوہ ہے۔ولید نے کہا کہ اے میرے بھتیجے !ولید ان کے والد کے بڑے قریبی دوست تھے۔انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے !شاید تمہیں میرے اس امان کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو یا بے عزتی ہوئی ہے ؟ تو آپ کہنے لگے کہ نہیں لیکن میں اللہ امان سے راضی ہوں۔تمہاری امان سے نکلتا ہوں اور اللہ کی امان پر راضی ہوں اور میں اس کے علاوہ کسی اور کی پناہ کا طلب گار نہیں ہوں۔ولید نے کہا کہ خانہ کعبہ کے پاس چلو اور وہیں میری امان علی الاعلان واپس کر دو جیسا کہ میں نے تمہیں علی الاعلان پناہ دی تھی۔حضرت عثمان نے کہا چلیں۔پھر وہ دونوں خانہ کعبہ کے پاس گئے۔ولید نے کہا یہ عثمان ہے جو مجھے میری امان واپس کرنے آیا ہے، لوگوں کے سامنے یہ اعلان کیا۔عثمان نے کہا یہ سچ کہہ رہا ہے۔یقیناً میں نے اسے یعنی اس امان دینے والے ولید کو وعدے کا سچا اور امان کے لحاظ سے معزز پایا ہے مگر اب میں اللہ کے سوا کسی اور کی امان میں نہیں رہنا چاہتا۔اس لیے نہیں نے ولید کی امان کو اسے واپس کر دیا ہے۔اس کے بعد حضرت عثمان لوٹ گئے۔586 ہجرت حبشہ کی کچھ تفصیل اس ہجرت حبشہ کا ذکر پہلے بھی مختلف صحابہ کے ذکر میں ہو تا رہا ہے۔587 مختصر بیان کر دیتا ہوں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی اس کو تاریخ کے مختلف حوالوں سے لکھا ہے کہ جب مسلمانوں کی تکالیف انتہا کو پہنچ گئیں اور قریش اپنی ایذارسانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت ملا ہم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے۔اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہو تا۔حبشہ کا ملک جو ایتھوپیا یا اب سینیا کہلا تا ہے براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور جائے وقوع کے لحاظ سے جنوبی عرب کے بالکل بالمقابل ہے اور درمیان میں بحیرہ احمر کے سوا کوئی اور ملک حائل نہیں۔اس زمانہ میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشی کہلاتا تھا بلکہ اب تک بھی وہاں کا حکمران اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔(جب انہوں نے یہ لکھا تھا) حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے۔اس وقت کے نجاشی کا ذاتی نام اصحمہ تھا جو ایک عادل، بڑا نصاف کرنے والا، بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔بہر حال جب مسلمانوں کی تکالیف انتہا کو پہنچ گئیں تو آنحضرت صلی لی کر کے فرمانے پر ماہ رجب پانچ نبوی میں نبوت کے دعوے کے پانچ سال کے بعد گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں سے زیادہ معروف نام یہ ہیں۔