اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 256
اصحاب بدر جلد 5 کفار مکہ کا حسد اور حسرتیں 256 ایک اور جگہ کفار مکہ کی حسرتوں اور حسد کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے سامان پیدا کیے کہ کفار کے دل ہر وقت جل کر خاکستر ہوتے رہتے تھے اور انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس آگ کو بجھانے کا ہم کیا انتظام کریں۔کوئی خاندان ایسا نہیں تھا جس کے افراد رسول کریم صلی الی یکم کی غلامی میں نہ آچکے ہوں۔حضرت زبیر ایک بڑے خاندان میں سے تھے۔حضرت عثمان بن مظعون ایک بڑے خاندان میں سے تھے۔اسی طرح حضرت عمر و بن العاص اور خالد بن ولید " (جو بعد میں مسلمان ہوئے) مکہ کے چوٹی کے خاندانوں میں سے تھے۔عاص مخالف تھے مگر " ( یعنی عمرو کے والد) "عمر و مسلمان ہو گئے۔ولید مخالف تھے مگر خالد مسلمان ہو گئے۔" آپ لکھتے ہیں کہ غرض ہزاروں لوگ ایسے تھے جو اسلام کے شدید دشمن تھے مگر ان کی اولادوں نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی علیم کے قدموں میں ڈال دیا اور میدان جنگ میں اپنے باپوں اور رشتہ داروں کے خلاف 5851 تلواریں چلائیں۔" ہجرت حبشہ اور واپسی حضرت عثمان بن مظعون کی ہجرت حبشہ اور وہاں سے مکہ واپسی کا بھی ذکر آتا ہے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھے۔ابن اسحاق کے نزدیک آپ نے تیرہ آدمیوں کے بعد اسلام قبول کیا۔آپ نے اور آپ کے بیٹے سائب نے مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ حبشہ کی طرف پہلی ہجرت بھی کی تھی۔حبشہ قیام کے دوران ہی جب انہیں خبر ملی کہ قریش ایمان لے آئے ہیں۔تب آپ واپس مکہ آگئے تھے۔ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ جب مہاجرین حبشہ کو آنحضور صلی علیم کے ساتھ اہل مکہ کے سجدہ کرنے کی خبر پہنچی تو یہ لوگ وہاں سے چل پڑے۔اس کی تفصیل میں پہلے پچھلے خطبات میں بیان کر چکا ہوں اور ان کے ساتھ اور لوگ بھی تھے کہ سجدہ کی وجہ کیا ہوتی تھی؟ ان کا یہ خیال تھا کہ سب کفار نے آنحضور صلی علیکم کی پیروی کر لی ہے۔جب یہ مکہ کے قریب پہنچے اور اصل واقعے کا پتا لگا تو اس وقت انہیں واپس حبشہ جانا مشکل لگ رہا تھا۔بعض دوسری روایات کے مطابق بعض لوگ وہیں سے واپس حبشہ چلے گئے تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اور جو مکے میں بھی بغیر کسی کی پناہ میں آنے کے داخل ہونے سے ڈر رہے تھے وہ چلے گئے تھے۔بہر حال جو وہاں آگئے تھے یہ کچھ دیر وہیں رکے رہے یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک اہل مکہ میں سے کسی نہ کسی کی امان میں داخل ہوا۔انہوں نے کسی نہ کسی کی امان لے لی یا راستے میں کچھ دیر رکے رہے جب تک امان نہ گئی۔حضرت عثمان بن مظعون ولید بن مغیرہ کی امان میں آئے۔ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان نے دیکھا کہ آنحضرت صلی علیہ یکم کے صحابہ کو تکالیف پہنچ رہی ہیں، لوگ ان کو مار رہے ہیں، ان پر ظلم کر رہے ہیں اور وہ ولید بن مغیرہ کی امان میں رات دن سکون سے گزار رہے ہیں۔ولید وہاں کفار