اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 236

اصحاب بدر جلد 5 236 تبوکیہ چلے جائیں۔حضرت ابو بکڑ نے پہلے خالد بن سعید کو امیر مقرر کیا تاہم بعد میں ان کی جگہ یزید بن سفیان کو امیر بنالیا۔یہ لوگ سات ہزار مجاہدین کے ہمراہ ملک شام کی طرف روانہ ہوئے۔اسلامی لشکر کے امراء اپنی فوجوں کو لے کر شام پہنچے۔ہر قل خود چل کر حمص آیا اور رومیوں کا بہت بڑا لشکر تیار کیا۔اس نے مسلمان امراء کے مقابلے کے لیے الگ الگ امیر مقرر کیے۔دشمن کی تیاری دیکھ کر مسلمانوں پر اور بعض ان میں سے اتنے ایمان والے بھی نہیں تھے، ہیبت طاری ہو گئی کیونکہ مسلمانوں کی تعداد اس وقت ستائیس ہزار تھی۔اس صورت حال میں حضرت عمرو بن عاص نے ہدایت دی کہ تم سب ایک جگہ جمع ہو جاؤ کیونکہ جمع ہونے کی صورت میں قلت تعداد کے باوجود تمہیں مغلوب کرنا آسان نہیں ہو گا۔تھوڑے ہو اس لشکر کے مقابلے پر لیکن اگر اکٹھے ہو جاؤ گے تو آسانی سے تمہارے پر فتح نہیں پائی جائے گی۔اگر علیحدہ علیحدہ رہے ہر لیڈر کے اندر تو یاد رکھو تم میں سے ایک بھی ایسا باقی نہیں رہے گا جو کسی آگے والے کے کام آسکے کیونکہ ہم میں سے ہر ایک پر بڑی بڑی فوجیں مسلط کر دی گئی ہیں۔چنانچہ طے یہ ہوا کہ یرموک کے مقام پر سب مسلمان فوجیں اکٹھی ہو جائیں۔یہی مشورہ حضرت ابو بکر نے تبھی مسلمانوں کو بھجوایا اور فرمایا کہ جمع ہو کر ایک لشکر بن جاؤ اور اپنی فوجوں کو مشرکین کی فوجوں سے بھڑ ادو۔تم اللہ کے مدد گار ہو۔اللہ اس کا مددگار ہے جو اللہ کا مددگار ہے اور وہ اس کو رسوا کرنے والا ہے جس نے اس کا انکار کیا۔تم جیسے لوگ قلت تعداد کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے۔حضرت ابو بکر نے پیغام بھجوایا کہ بیشک تم تھوڑے ہو لیکن اگر ایمان ہے اور اکٹھے ہو کر لڑو گے تو کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے کیونکہ تم خدا تعالیٰ کی خاطر لڑ رہے ہو۔فرمایا کہ دس ہزار بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اگر گناہوں کے طرف دار بن کر اٹھیں گے تو وہ دس ہزار سے ضرور مغلوب ہو جائیں گے۔تعداد کی فکر نہ کرو کیونکہ اگر تم دس ہزار ہو یا اس سے بھی زیادہ ہو لیکن اگر وہ گناہ کرنے والے ہیں اور غلط کام کرنے والے ہیں تو پھر ضرور مغلوب ہوں گے لہذا تم گناہوں سے بچو۔اپنے آپ کو پاک بھی کرو اور ایک ہو جاؤ۔اکائی پیدا کر و اور یرموک میں مل کر کام کرنے کے لیے جمع ہو جاؤ۔تم میں سے ہر ایک امیر اپنی فوج کے ساتھ نماز ادا کرے۔صفر 13 ہجری سے لے کر ربیع الثانی تک مسلمانوں نے رومی لشکر کا محاصرہ کیا تاہم مسلمانوں کو اس دوران کامیابی نہیں ملی۔اس دوران حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن ولید کو بطور کمک کے عراق سے پر موک پہنچنے کا حکم دیا۔حضرت خالد بن ولید اس وقت عراق کے گورنر تھے۔حضرت خالد کے پہنچنے سے قبل تمام امراء الگ الگ اپنی فوج کو لے کر لڑ رہے تھے تاہم حضرت خالد نے وہاں پہنچ کر تمام مسلمانوں کو ایک امیر مقرر کرنے کی نصیحت کی جس پر سب نے حضرت خالد بن ولید کو امیر مقرر کر لیا۔رومیوں کے لشکر کی تعد اد دو لاکھ یا دولاکھ چالیس ہزار کے قریب بیان کی جاتی ہے اور اس کے مقابل پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد سینتیس ہزار سے لے کر چھیالیس ہزار تک بیان کی جاتی ہے، تقریب پانچواں حصہ تھی۔رومی لشکر کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اتنی ہزار کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور چالیس ہزار آدمی زنجیروں میں بندھے