اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 214
اصحاب بدر جلد 5 214 ہوئی تو میں بے وجہ اس لعنت کے واپس آنے کا باعث بنوں گا۔27 497 اس لئے بہتر ہے کہ میں چلا جاؤں اور پانی نہ پہیوں۔تو خدا تعالیٰ کے خوف کا یہ حال تھا کہ کہیں شائبہ بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہو سکتی ہے کسی وجہ سے تو یہ لوگ اس سے بچتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود د بلے جسم پتلے قد اور گندم گوں رنگ کے مالک تھے لیکن لباس بڑا اچھا پہنتے تھے۔سفید کپڑا پہنتے خوشبو لگاتے تھے۔حضرت طلحہ سے مروی ہے کہ آپ اپنی خوشبو سے پہچانے جاتے تھے۔498 حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی علی یکم نے کسی کام کے لئے عبد اللہ بن مسعود کو ایک درخت پر چڑھنے کا حکم دیا۔صحابہ آپ کی دبلی اور بظاہر کمزور پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسی مذاق کرنے لگے ، بڑی کمزور سی دبلی پتلی ٹانگیں تھیں، ہنسی مذاق کرنے لگے۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ کیوں بنتے ہو ؟ عبد اللہ کی نیکیوں کا پلڑا قیامت کے دن احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہو گا۔499 حضرت عبد اللہ بن مسعود کے بال ایسے تھے جن کو وہ اپنے کانوں تک اٹھاتے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ کے بال گردن تک پہنچتے تھے۔جب آپ نماز پڑھتے تو انہیں کانوں کے پیچھے کر لیتے 500 علم و فضل میں مقام و مر تبہ زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت عمر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود آئے۔چونکہ وہ پست قد کے تھے اس لئے اور لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے ان میں چھپنے کے قریب ہو گئے۔ان کا قد چھوٹا تھا۔دوسرے لوگ بہت لمبے لمبے قد کے بیٹھے ہوئے تھے یا اس طرح بیٹھے ہوں گے کہ بیٹھنے کی وجہ سے چھپ گئے۔قریب چھپنے والے تھے یا صحیح نظر نہیں آرہے تھے۔حضرت عمر نے جب ان کو دیکھا تو مسکرانے لگے۔پھر حضرت عمر نے آپ سے ہی باتیں کیں اور ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگے۔اس دوران حضرت عبد اللہ کھڑے رہے، جب باتیں کر رہے تھے حضرت عمر سے تو حضرت عبد اللہ کھڑے ہو گئے تاکہ چھپیں نہ اور باتیں کرتے رہیں۔باتیں کرنے کے بعد جب حضرت عبد اللہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت عمر نے آپ کو جاتے ہوئے دیکھا اور پیچھے سے دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ شخص علم سے بھرا ہوا ایک بڑا برتن ہے۔501 حضرت ابن مسعود کے علمی مقام یعنی عبد اللہ بن مسعود کے علمی مقام اور مرتبہ کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبل کی وفات کا وقت آیا اور ان سے درخواست کی گئی کہ ہمیں کوئی نصیحت کریں تو انہوں نے فرمایا کہ علم اور ایمان کا ایک مقام ہے جو بھی اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے کامیاب ہوتا ہے۔پھر علم اور ایمان سیکھنے کے لئے حضرت معاذ بن جبل نے جن چار عالم