اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 210
اصحاب بدر جلد 5 210 زخمی ہے اور جان کنی کی حالت میں پڑا ہے۔اسے عفراء کے بیٹوں نے اس حالت میں پہنچایا تھا۔حضرت ابن مسعود نے اس کی داڑھی سے پکڑ کر کہا کہ کیا تم ہی ابو جہل ہو ؟ اس نے اس حالت میں بھی بڑے غرور سے جواب دیا۔کیا کبھی مجھ سے بڑا سردار بھی تم نے مارا ہے۔483 پہلی روایت تو بخاری کی تھی اس کے بارے میں صحیح مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اس کی داڑھی کو پکڑ کر کہا کہ کیا تو ابو جہل ہے ؟ اس پر ابو جہل نے کہا کیا تم نے آج سے پہلے میرے جیسا بڑا آدمی قتل کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں ابو جہل نے کہا اے کاش کہ میں ایک کسان کے ہاتھوں سے قتل نہ ہوتا۔484 مدینہ کے دولڑ کے تھے جنہوں نے قتل کیا تھا۔اس کو اس حالت میں پہنچایا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بھی تفسیر کبیر میں اس کی تفصیل لکھی ہے کہ کس طرح دشمن حسد کی آگ میں ساری عمر جلتے رہے اور پھر مرتے ہوئے بھی اسی آگ میں جل رہے تھے۔آپ لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد میں نے دیکھا کہ ابو جہل ایک جگہ زخموں کی شدت کی وجہ سے کراہ رہا ہے۔میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا سناؤ کیا حال ہے ؟ اس نے کہا مجھے اپنی موت کا کوئی غم نہیں، سپاہی آخر مراہی کرتے ہیں۔مجھے تو یہ غم ہے کہ مدینہ کے دو انصاری لڑکوں کے ہاتھوں سے میں مارا گیا۔مر تو میں رہا ہوں تم صرف اتنا احسان کرو میرے پہ کہ تلوار سے میری گردن کاٹ دو تا کہ میری یہ تکلیف ختم ہو جائے۔مگر دیکھنا میری گردن ذرا لمبی کاٹنا کیونکہ جرنیلوں کی گردن ہمیشہ لمبی کائی جاتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ میں تیری اس آخری حسرت کو بھی کبھی پورا نہیں ہونے دوں گا اور ٹھوڑی کے قریب سے تیری گردن کاٹوں گا۔چنانچہ انہوں نے ٹھوڑی کے قریب تلوار رکھ کر اس کا سر تن سے جد ا کر دیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ دیکھو یہ کتنی بڑی آگ تھی جو ابو جہل کو جلا کر راکھ کر رہی تھی کہ ساری عمر اس بات پر جلتا رہا کہ آنحضرت صلی علیہم کو جو نقصان ہم پہنچانا چاہتے ہیں وہ پہنچا نہیں سکے۔پھر مرنے لگا، موت کی جو حالت آئی تو اس وقت اس آگ میں جل رہا تھا کہ مدینہ کے دو نا تجربہ کار نو عمر لڑکوں کے ہاتھوں مارا جارہا ہے۔اور پھر مرتے وقت اس نے جو آخری خواہش کی تھی وہ بھی پوری نہیں ہوئی اور ٹھوڑی کے پاس سے اس کی گردن کاٹی گئی۔؟ غرضیکہ ہر قسم کی آگوں میں جلتا ہوا ہی وہ دنیا سے چلا گیا۔مکہ اور مدینہ میں مواخات 485 جب حضرت عبد اللہ بن مسعود ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو حضرت معاذ بن جبل کے ہاں آپ کا قیام تھا۔بعض کے مطابق آپ حضرت سعد بن خیثمہ کے ہاں ٹھہرے تھے۔مکہ میں آپ کی مواخات حضرت زبیر بن العوام سے ہوئی تھی جبکہ مدینہ میں آنحضور صلی ﷺ نے معاذ بن جبل کو آپ کا