اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 208
208 اصحاب بدر جلد 5 نے یہ لفظ اور رنگ میں سکھایا تھا۔آپ نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے جس طرح تم پڑھ رہے ہو۔تو حضرت مصلح موعودؓ نے نتیجہ نکالا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چار صحابہ رسول اللہ صلی علیم سے قرآن نہیں پڑھتے تھے بلکہ دوسرے لوگ بھی پڑھتے تھے۔چنانچہ حضرت عمر کا یہ سوال کہ مجھے آپ نے اس طرح پڑھایا ہے بتاتا ہے کہ حضرت عمر بھی رسول کریم صلی علیم سے پڑھتے تھے۔7 477 خص رسول اللہ صلی علیم کے بعد سب سے پہلے قرآن کو علی الاعلان پڑھنے والے ایک روایت میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی الی یکم کے بعد سب سے پہلے قرآن کو علی الاعلان پڑھنے والے حضرت عبد اللہ بن مسعود ہی تھے۔چنانچہ یہ واقعہ اس طرح ملتا ہے کہ ایک دن صحابہ جمع تھے اور آپس میں کہہ رہے تھے کہ قریش نے قرآن کی بلند آواز تلاوت کبھی نہیں سنی۔کیا کوئی ان کو سنا سکتا ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ میں سنا سکتا ہوں۔لوگوں نے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کفار تمہیں تکلیف نہ پہنچائیں۔تم تو مز دور آدمی ہو تمہارے بجائے کوئی اور با اثر شخص ہو کہ کفار اگر اسے مارنا بھی چاہیں گے تو اس کا قبیلہ اسے بچالے گا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کہنے لگے کہ اس کی فکر نہ کرو مجھے اللہ بچائے گا۔عجیب جوش تھا ان صحابہ میں۔دوسرے دن چاشت کے وقت صبح کو آپ نے مقام ابراہیم پہنچ کر بلند آواز سے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الرَّحْمٰنُ عَلَمَ الْقُرآن پڑھنا شروع کر دیا۔قریش جو کہ اپنی مجالس میں بیٹھے تھے آپ کے اس عمل سے حیران ہوئے۔بعض نے کہا یہ تو انہی عبارتوں میں سے پڑھ رہا ہے جو محمد صلی علی کم بیان کرتے ہیں۔یہ سن کر سب اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے منہ پر مار ناشروع کر دیا مگر آپ پڑھتے رہے اور جتنا پڑھنے کا ارادہ کیا تھا پڑھا۔بعد میں جب حضرت عبد اللہ بن مسعود اصحاب کے پاس واپس گئے تو آپ کے منہ پر طمانچوں کے نشان دیکھ کر صحابہ کہنے لگے کہ ہمیں اس بات کا خطرہ تھا کہ تمہیں مار پڑے گی۔اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ یہ خدا کے دشمن میری نظر میں اتنے بے حقیقت کبھی نہ تھے جتنے اس وقت تھے جب وہ مجھے مار رہے تھے۔اگر تم چاہو تو میں کل بھی ایسا ہی کرنے کو تیار ہوں۔صحابہ نے کہا نہیں اتنا ہی کافی ہے تم نے انہیں وہ چیز سنادی ہے جسے وہ سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔478 نبی اکرم علی نام سے قربت کا مقام حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اسلام قبول کرنے کے بعد آنحضور صلی للی یکم نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا۔آپ حضور صلی علیکم کی خدمت کیا کرتے تھے۔نبی کریم صلی علیہم نے آپ سے فرما دیا تھا کہ جب تم میری آواز سن لیا کرو اور گھر میں پردہ نہ پڑا ہو توبلا اجازت اندر آجایا کرو۔گھر میں اگر پر دہ گرا ہوا ہے تو پھر بغیر پوچھے نہیں آنا اور اگر پردہ اٹھا ہوا ہے، دروازہ کھلا ہے میری آواز سن لی ہے تم نے تو آجایا کرو تمہیں اجازت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی اس وقت، کوئی خواتین وغیرہ نہیں ہیں۔