اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 173
اصحاب بدر جلد 5 173 پہنے زرہ میں چھپا ہوا کھڑا ہے جس کے سامنے مضبوط اور بہادر جرنیل جنگی تلوار میں اپنے ہاتھوں میں لیے کھڑے ہیں وہ ابو جہل ہے۔میرا مطلب یہ تھا کہ میں ان کو بتاؤں کہ تمہارے جیسے ناتجربہ کار بچوں کے اختیار سے یہ بات باہر ہے مگر وہ، (عبد الرحمن کہتے ہیں کہ ) میری وہ انگلی جو اشارہ کر رہی تھی ابھی نیچے نہیں جھکی تھی کہ جیسے باز چڑیا پر حملہ کرتا ہے اسی طرح وہ دونوں انصاری بچے کفار کی صفوں کو چیرتے ہوئے ابو جہل کی طرف دوڑنا شروع ہوئے۔ابو جہل کے آگے عکرمہ اس کا بیٹا کھڑا تھا جو بڑا بہادر اور تجربہ کار جرنیل تھا مگر یہ انصاری بچے اس تیزی سے گئے کہ کسی کو وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا کہ کس مقصد کے لیے یہ آگے بڑھے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ابو جہل پر حملہ کرنے کے لیے کفار کی صفوں کو چیرتے ہوئے عین پہرہ داروں تک جا پہنچے۔ننگی تلوار میں اپنے ہاتھ میں لیے جو پہرے دار کھڑے تھے وہ وقت پر اپنی تلواریں بھی نیچے نہ لا سکے۔صرف ایک پہرے دار کی تلوار نیچے جھک سکی اور ایک انصاری لڑکے کا بازو کٹ گیا مگر جن کو جان دینا آسان معلوم ہو تا تھا ان کے لیے بازو کا کٹنا کیا روک بن سکتا تھا۔جس طرح پہاڑ پر سے پتھر گرتا ہے اسی طرح وہ دونوں لڑکے پہرہ داروں پر دباؤ ڈالتے ہوئے ابو جہل پر جا گرے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی کفار کے کمانڈر کو جاگر ایا۔ابو جہل کے آخری سانس اور ایک اور ناکام حسرت حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں جنگ کے آخری وقت میں وہاں پہنچا جہاں ابو جہل جان کندنی کی حالت میں پڑا ہوا تھا۔میں نے کہا سناؤ کیا حال ہے ؟ اس نے کہا مر رہا ہوں۔پر حسرت سے مر رہا ہوں کیونکہ مرنا تو کوئی بڑی بات نہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ دل کی حسرت نکالنے سے پہلے انصار کے دو چھوکروں نے مجھے مار گرایا۔مکہ کے لوگ انصار کو بہت حقیر سمجھا کرتے تھے۔اس لیے اس نے افسوس کے ساتھ اس کا ذکر کیا اور کہا یہی حسرت ہے جو اپنے دل میں لیے مر رہا ہوں کہ انصار کے دو چھو کروں نے مجھے مار ڈالا۔پھر وہ ان سے کہنے لگا میں اس قدر شدید تکلیف میں ہوں۔عبد اللہ بن مسعود کو ابو جہل نے کہا کہ میں بڑی شدید تکلیف میں ہوں۔کیا تم مجھ پر، میرے پر ایک احسان کرو گے۔اگر تلوار کے ایک وار سے میرا خاتمہ کر دو مگر دیکھنا میری گردن ذرا لمبی کاٹنا کہ جرنیل کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کی گردن لمبی کائی جاتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کی یہ بات تو مان لی کہ مجھے قتل کر دو اور اس دکھ سے بچالو مگر انہوں نے ٹھوڑی کے پاس سے اس کی گردن کو کاٹا۔گویا مرتے وقت اس کی یہ حسرت بھی پوری نہ ہوئی کہ اس کی گردن لمبی کائی جائے۔378 حضرت مصلح موعودؓ نے قربانیوں کے ضمن میں یہ ذکر، یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح بچوں میں بھی آنحضرت صلی للی کام سے عشق اور محبت تھی اور کس طرح آپ کے دشمن سے وہ بدلہ لینا چاہتے تھے۔یہ واقعہ پہلے بھی ایک دو دفعہ بیان ہو چکا ہے 379 لیکن بہر حال یہ قربانیاں تھیں، یہ محبت تھی اور ان سب کا آنحضرت صلی علیہ ہم سے یہ عشق تھا جس کی وجہ سے ان کو اپنی جانوں کی پروا نہیں تھی۔380