اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 166

اصحاب بدر جلد 5 166 اوائل میں اسلام قبول کرنے اور دو ہجر تیں کرنے والے حضرت عبد اللہ بن مخرمہ اوائل میں اسلام لانے والوں میں شامل تھے۔حضرت عبد اللہ بن مخرمه و دو ہجرتیں کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ کی طرف۔ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کا ذکر ان صحابہ میں کیا ہے جنہوں نے حضرت جعفر کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔یونس بن بگیر، سلمہ اور بکائی نے ابن اسحاق کا یہ قول بیان کیا ہے جس میں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کی حبشہ کی طرف ہجرت کا ذکر کیا ہے۔حضرت عبد اللہ بن مخرمه جب مدینہ ہجرت کر کے پہنچے تو انہوں نے حضرت کلثوم بن ھدھم کے گھر قیام کیا۔رسول اللہ صلی العلیم نے حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کی مواخات حضرت فروہ بن عمر و انصاری سے کروائی۔حضرت عبد اللہ بن مخرمہ غزوہ بدر اور بعد کے باقی تمام غزوات میں شامل ہوئے۔حضرت عبد الله بن مخرمه جب جنگ بدر میں شامل ہوئے تو اس وقت ان کی عمر تیس سال تھی۔حضرت ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت میں جب یہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے تو اس وقت ان کی عمر اکتالیس سال تھی۔356 رض الله س رض جذبہ شہادت حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کا جذبہ شہادت انتہائی حد تک بڑھا ہوا تھا۔چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتے تھے کہ مجھے اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک میں اپنے جسم کے ہر جوڑ پر خدا کی راہ میں لگا زخم نہ دیکھ لوں۔چنانچہ جنگ یمامہ کے روز ان کے جوڑوں پر زخم پہنچے جن کی وجہ سے یہ شہید ہو گئے۔357 عبادت گزار۔۔۔جنہوں نے روزہ کی حالت میں شہادت پائی حضرت عبد الله بن مخرمه "بہت زیادہ عبادت گزار تھے۔جوانی میں بھی بڑی عبادت کیا کرتے تھے۔حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے سال میں حضرت عبد اللہ بن مخرمہ اور حضرت ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم ایک ساتھ تھے۔ہم تینوں باری باری بکریاں چرایا کرتے تھے۔لشکر کے لیے کچھ مال بھی تھا، اس کی حفاظت کرنی ہوتی تھی۔چنانچہ جس دن لڑائی شروع ہوئی وہ دن میرا بکریاں چرانے کا تھا۔پس میں بکریاں چرا کر آیا تو میں نے حضرت عبد اللہ بن مخرمه و میدانِ جنگ میں زخمی حالت میں گرا ہوا پایا تو میں ان کے پاس ٹھہر گیا۔انہوں نے کہا اے عبد اللہ بن عمر ! کیا روزہ دار نے افطاری کرلی ہے ؟ شام کا وقت ہو گیا تھا، میں نے کہا ہاں۔تو انہوں نے کہا کہ اس ڈھال میں کچھ پانی دے دو کہ میں اس سے افطار کر لوں۔وہ جنگ میں بھی روزے کی حالت میں تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں پانی لینے چلا گیا مگر جب میں واپس آیا تو وہ وفات پاچکے تھے۔58